BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 10 May, 2002, 10:18 GMT 14:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ہلاکتوں کا سلسلہ
 
کراچی میں خود کش دھما کے کی شکار بس
کراچی میں خود کش دھما کے کی شکار بس

تحریر: عظمت عباس

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سن 2002 کے پہلے حصے میں ہونے والی شدت پسندی کی وارداتوں کی تفصیل۔

3 جنوری، کراچی :

سرجانی ٹاؤن میں مسجد عثمان غنی کے امام مولانا ثنااللہ درخواستی کو تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ نماز عشاء ادا کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔

9 جنوری، کراچی :

تریپن سالہ سیّد حسن علی رضوی کو گلشن اقبال کی مدینہ مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ تنظیمِ حسینی کے بانیوں میں سے تھے اور ریجنل ٹرانسپوٹ اتھارٹی کے دفتر میں سپریٹنڈنٹ تھے۔

12 جنوری :

صدر جنرل پرویز مشرف نے تحریکِ جعفریہ، سپاہِ صحابہ، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیہ پر پابندی عائد کر دی اور سُنی تحریک کی نگرانی کا حکم دے دیا۔

28 جنوری، چنیوٹ :

دو موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک راہگیر ہلاک اور پولیس کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔ موٹر سائیکل سواروں کو فرقہ وارانہ تنظیم کے سرگرم کارکن بتایا گیا۔

29 جنوری، کراچی :

ساٹھ سالہ سیّد جواد علی (غیر ملکی انشورنس کمپنی کے ریٹائرڈ افسر) اور پچپن سالہ سیّد زمرد حسین جعفری، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں نماز ادا کر کے لوٹ رہے تھے کہ دو دہشت گردوں نے ڈیفنس کالونی میں انکی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سیّد جواد علی ہلاک اور سیّد زمرد حسین جعفری زخمی ہو گۓ۔

3 فروری، کراچی :

دو نامعلوم حملہ آوروں نے چالیس سالہ صادق علی ہمشیری کو کھارادر میں انکی بیکری میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو گولیاں ان کے سر میں لگیں۔ وہ امام بارگاہ حسینیان ایرانیان کے منتظم اور ٹرسٹی تھے۔

4 فروری، جھنگ :

جھنگ کی ایلیٹ پولیس کے انچارج انسپکٹر محمد جمیل گھر لوٹتےہوئے پٹرول پمپ پہ رکے تو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے اور پٹرول پمپ کا ایک ملازم زخمی ہو گیا۔ انسپکٹر محمد جمیل لشکرِ جھنگوی کے خلاف کی گئی پولیس کارروائیوں میں آگے آگے رہے جس کے نتیجے میں تنظیم کے سرگرم رکن ہلاک اور گرفتار کئے گئے۔

4 فروری، جھنگ :

پنتالیس سالہ ڈاکٹر فیاض کریم مسجد ابراہیم خلیل اللہ سے باہر آئے تو دو دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی، گولیاں ان کے سر میں لگیں اور وہ ہلاک ہو گئے۔

6 فروری، کراچی :

سپیرئیر سائنس کالج کے اٹھاون سالہ پرنسپل پروفیسر اظہر حسین زیدی اور ان کے چھبیس سالہ نوجوان بیٹے اشعر حسین زیدی گاڑی پر سوار کالج سے نکل رہے تھے کہ دو دہشت گردوں نے چھپ کر حملہ کر دیا۔ اظہر کو تین اور اشعر کو ایک گولی لگی جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہو گئے۔

8 فروری، کراچی :

غیر ملکی دوا ساز کمپنی کے ملازم سیّد غیّور عباس اور ارشد عزیز پولیس کے بقول مسجدِ نجف میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ انکی گاڑی پر فائرنگ کی گئ اور شدید زخموں کے باعث انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا۔

9 فروری، کراچی :

نئی کراچی کے پان فروش، پچاس سالہ سیّد آزاد حسین زیدی کو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

11 فروری، کراچی :

حملہ آوروں نے چالیس برس کے ایک دوکاندار سیّد آزاد حسن زیدی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مسلح افراد نے چائے کی دوکان پر حملہ کر کے دوکان دار محمد رمضان کو ہلاک کر دیا۔

12 فروری، کراچی :

دو موٹر سائیکل سواروں نے چالیس برس کے ڈاکٹر راشد مہدی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ وہ سر میں دو گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے۔

26 فروری، راولپنڈی :

تین حملہ آوروں نے شاہِ نجف مسجد میں نماز مغرب کے دوران فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گیارہ نمازی ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے۔

28 فروری، کراچی :

بظاہر لشکرِ جھنگوی کے دو سرگرم کارکنوں کو آزاد کرانے کے لئے حملہ آوروں نے چھپ کر پولیس وین پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور ایک قیدی شامل تھے جبکہ چار پولیس اہلکار اور چھ قیدی زخمی ہوئے۔

1 مارچ، سیالکوٹ :

دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ایک مقامی شیعہ عالم باقر حسین شاہ کو گولی کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔

4 مارچ، کراچی :

دو موٹر سائیکل سواروں نے گردوں کے ماہر ڈاکٹر آلِ صفدر زیدی کو، جن کی عمر چالیس برس تھی، سلطان مسجد کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

6 مارچ، کراچی :

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پنتیس سالہ طالب حسین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

7 مارچ، کراچی :

چالیس سالہ ڈاکٹر مظفر علی جعفری گھر لوٹ رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی۔ ڈاکٹر مظفر علی کی گردن اور سر میں تین گولیاں لگیں اور وہ ہلاک ہو گئے۔

حملہ آوروں نے علی رضا امام بارگاہ کے نگران علی رضا اور ایک راہگیر کو زخمی کر دیا۔ دو موٹر سائیکل سواروں نے بس سٹاپ پر کھڑے سبطے حسن کو نشانہ بنایا، ان کے پیٹ میں تین گولیاں لگیں، قریب میں کھڑے محمد اسحاق سبطے کی طرف لپکے، ان کی ٹانگ میں ایک گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔

8 مارچ، ملتان :

پچاس سالہ ریٹائرڈ بنک افسر سیّد پنجتن کاظمی کو ان کے گھر کے قریب دو حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

11 مارچ، بہاولپور :

لشکرِ جھنگوی کے سرگرم رکن شکیل انور عرف شکیل مصطفٰے پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ان کے سر پر تیرہ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

11 مارچ، کراچی :

تحریک جعفریہ پاکستان کے نائب صدر انور ترمذی اور ذوالفقار حیدر محرم کے جلوس کی تیاریوں میں مصروف تھے جب دو موٹر سائیکل سواروں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ انہی حملہ آوروں نے مزاحمت کرنے والے دو پولیس کانسٹیبلوں کو بھی گولی مار دی۔

گاڑی پر سوار تین حملہ آوروں نے ڈاکٹر علی جعفر نقوی، ڈاکٹر بلال اور ڈاکٹر شہناز پر فائرنگ کر دی لیکن وہ بال بال بچ گئے۔

11 مارچ، مظفرگڑھ :

تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی رہنما مظہر حسین گیلانی کے بڑے بھائی سیّد محمود حسین اپنے دوست ملک انور علی کے ساتھ ایک دوکان میں تھے کے دو موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر دیا۔ سیّد محمود حسین موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ انور علی نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔

12 مارچ، کراچی :

کان، ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹر انوارالاسلام اپنی گاڑی پر سوار ہونے کو تھے جب دو موٹر سائیکل سواروں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

14 مارچ، وہاڑی :

لشکرِ جھنگوی کے متعدد سرگرم رکن پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کے سر پر پانچ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

16 مارچ، جھنگ :

فقہ جعفریہ کے پیر صابر سلطان اور ان کے چار مریدوں کو انیس سو اٹھانوے میں حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا تھا اور بظاہر انہی ہلاکتوں کے بدلے میں سپاہ صحابہ کے پانچ سرگرم اراکین کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

17 مارچ، اسلام آباد :

اسلام آباد میں مقیم متعدد سفارتکاروں کا عملہ اتوار کو بین الاقوامی پروٹسٹنٹ چرچ میں مذہبی رسومات ادا کر رہا تھا کہ حملہ آوروں نے لوگوں پر دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امریکی اور ایک افغان شہری شامل تھے۔

19 مارچ، لاہور :

حملہ آوروں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، انکے محافظ اور ڈرائیور کو ہلاک کر دیا جس کے بعد فرار ہوتے ہوئے راہ میں ٹکرانے والی ایک چھوٹی بچی کے والد کو بھی گولی مار دی، جن کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ خیمہ سادات کے نگراں، سیّد حسن رضا تھے۔

21 مارچ، کراچی :

پولیس کے بقول دو موٹر سائیکل سواروں نے رات دس بجے ویڈیو فلم کی دوکان پرفائرنگ کی، دوکاندار کاظم جعفری ہلاک اور دو راہگیر زخمی ہو گئے۔

30 مارچ، بہاولپور :

دو موٹر سائیکل سواروں نے امام بارگاہ کے نگران، چھیالیس برس کے عارف حسین بھٹی اور ان کے انیس برس کے نوجوان بیٹے علی منتظر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

4 اپریل، کراچی :

لشکر جھنگوی کے سرگرم رکن لال دین عرف لالو پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔ وہ احتشام الدین حیدر کے قتل میں ملوث تھے اور ان کے سر پر دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

7 اپریل، کراچی :

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے امام بارگاہ زینبیہ کے محافظ کو ڈیوٹی کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

9 اپریل، کراچی :

دو موٹر سائیکل سواروں نے ایم کیو ایم کے سابق رکن، سنتیس برس کے اصفہان حیدر پر فائرنگ کی، گولی سینے میں لگی اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

21 اپریل، کراچی :

پنتیس برس کے ڈاکٹر حافظ عامر معاویہ بیس اپریل کی رات کو اپنی گاڑی پر روانہ ہونے والےتھے کہ ایک نامعلوم شخص نے بہت قریب سے ان پر گولی چلائی۔ ان کا اپریشن کیا گیا لیکن انہوں نےدم توڑ دیا۔

23 اپریل، کراچی :

امام بارگاہ نجف کے باہر ہونے والی فائرنگ میں ایک شخص زخمی اور دو ہلاک ہو گئے۔

25 اپریل، بھکر :

قدیمی امام بارگاہ میں منعقد مجلس کے دوران ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں نو خواتین اور تین بچے شامل تھے۔

26 اپریل، کراچی :

ایم کیو ایم کے دو اراکین، سابق سینیٹر مصطفٰے کمال رضوی اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نشاط ملک مرکزی شاہراہ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے فقہ جعفریہ کی پیروی کو مصطفٰے کمال رضوی کی ہلاکت کی وجہ بتایا۔

27 اپریل، کراچی :

دو موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں مذہبی مدرسے کے معلّم قاری خواجہ محمد اور ان کے شاگرد محمد گُل زخمی ہو گئے جس کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔

5 مئی، کراچی :

دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے بائیس سالہ وقار حسین شاہ کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے بقول وہ سپاہ صحابہ کے باضابطہ رکن نہیں تھے تاہم تنظیم کے سرگرم کارکنوں کے ساتھ انکے قریبی روابط تھے۔

دو حملہ آوروں نے ڈاکٹر اختر حسین رضوی کو انکی کلینک کے باہر گولی مار کر زخمی کر دیا۔

6 مئی، کراچی :

تین نوجوانوں نے گورنمنٹ جمیعہ ملیہ کے پرنسپل سیّد ظفر مہدی زیدی جن کی عمر پچاس برس تھی، ان کے ڈرائیور اور چپڑاسی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

7 مئی، کراچی :

امام بارگاہ کے نگران کے بتیس سالہ فرزند سیّد اصغر علی زیدی کو اپنی ہی درزی کی دوکان کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

7 مئی، لاہور :

مذہبی عالم ڈاکٹر غلام مرتضٰی ملک، ان کے ڈرائیور اور ایک پولیس کانسٹیبل کو دو موٹر سائیکل سواروں نے دہشت گردی کی مبینہ کاروائی میں ہلاک کر دیا۔

8 مئی، کراچی:

شیریٹن ہوٹل کے سامنے پاک بحریہ کی ایک بس سے خود کش بمبار نے اپنی کار ٹکرا دی جس سے حملہ آور سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوۓ جن میں گیارہ فرانسیسی بھی شامل تھے-

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد