BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 September, 2002, 23:09 GMT 03:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جھنگ میں انتخابی جنگ
 
انتخابات کے لئے سیاسی کارکنوں میں جوش و خروش نہیں
انتخابات کے لئے سیاسی کارکنوں میں جوش و خروش نہیں

تحریر: ساجد اقبال، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کالعدم مذہبی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ مولانا اعظم طارق حکومتی اداروں کے لئے چاہےایک مجرم ہی کیوں نہ ہوں جھنگ شہر سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور ان کی اکثریت اب بھی ایک ہیرو کی طرح ان کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مولانا اعظم طارق

موجودہ انتخابات میں وہاں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد اگرچہ چودہ ہے لیکن اصل مقابلہ آزاد امیدوار مولانا اعظم طارق، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مخدوم اسد حیات اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری میں بتایا جاتا ہے۔

حکومت کی حمایت یافتہ سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) کے امیدوار کمانڈر صہیب فاروق پہلے ہی مولانا اعظم طارق کے حق میں مقابلے سے دست بردار ہو چکے ہیں۔

انتخابی عمل کے شروع میں امید یہ کی جا رہی تھی کہ اصل مقابلہ مولانا اعظم طارق اور ان کے روایتی حریف شیخ اکرم کے صاحبزادے وقاص اکرم کے مابین ہوگا لیکن شیخ وقاص اکرم انتخابی قوانین سے ناواقفیت کی بنا پر انتخابی میدان سے باہر ہو چکے ہیں۔

 سید اسد حیات

لیکن انتخابی قوانین کے مطابق عمر کا تعین کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ کو ہوتا ہے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دن یہ بات سامنے آئی کہ وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر تو انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں لیکن قومی اسمبلی کے لئے جمع کرائے گئے کاغذات میں ان کی عمر پچیس سال سے کم ہے۔

موجودہ انتخابات کے موقع پر مولانا اعظم طارق میانوالی جیل میں بند ہیں اور انہوں نے کھلے خطوط کو رائے دہندگان تک اپنا پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے۔

اپنے پہلے کھلے خط میں انہوں نے فوجی حکومت کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس نے ان کے بقول امریکہ کےخلاف احتجاج کرنے، اسامہ بن لادن، ملاعمر اور طالبان سے محبت کا اظہار کرنے کو ناقابل معافی جرم بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی حکومت نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے مولانا اعظم طارق، مولانا مسعود اظہر اور حافظ محمد سعید کو جیل میں ڈال رکھا ہے۔

ان کی انتخابی مہم چلانے کے لئے آّزاد پارلیمانی گروپ کے نام سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہیں جو ایڈوکیٹ محمد سلیم بٹ کی سربراہی میں ان کی انتخابی مہم چلا رہی ہے۔

اس حلقے سے ایک اور اہم امیدوار پی پی پی کے مخدومزادہ سید اسد حیات ہیں۔ سن انیس سو اٹھاسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پی پی پی نے جھنگ شہر کے انتخابی حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا کیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات کے چھوٹے بھائی سید اسد حیات اس سے پہلے جھنگ کی ایک دیہی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے ضلعی نائب ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے اور وہ حال ہی میں ضلع میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔

اس نشست سے تیسرے اہم امیدوار پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہیں۔ جھنگ ان کا آبائی شہر ہے۔ وہ جھنگ کے علاوہ لاہور سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔

جہاں مولانا اعظم طارق کا زیادہ تر انحصار دیوبندی اور پانی پت سے ہجرت کر کے یہاں بسنے والے اردو اسپیکنگ ووٹ پر ہے اور سید اسد حیات شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اور پی پی پی کے نظریاتی ووٹ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری بریلوی ووٹ پر تکیہ کررہے ہیں۔ شیخ اکرم گروپ کی حمایت اس حلقے سے حاصل ہونے والے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد