BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 09:08 - 21/11/2002
ظفراللہ جمالی کون ہیں؟
پاکستان کے پہلے بلوچ وزیر اعظم
پاکستان کے پہلے بلوچ وزیر اعظم

تحریر: سہیل سانگی

پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کا تعلق بلوچستان کے ایک ایسے بااثر سردار خاندان سے ہے جس کے افراد ہر دور میں صوبائی اور وفاقی سطح پر حکومتوں میں شامل رہے ہیں۔

ان کے چچا زاد بھائی میر تاج محمد جمالی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے۔ میر عبدالرحمٰن جمالی اور میر فائق جمالی صوبائی کابینہ میں رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سن اٹھاسی کے بعد سے ان کے آبائی گاؤں روجھان جمالی سے تین وزراء اعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں جن میں تاج محمد کے علاوہ ظفراللہ کے بھتیجے جان جمالی بھی شامل ہیں۔

میر ظفراللہ کے والد میر شاہنواز جمالی پرانے مسلم لیگی رہنما میر جعفر خان جمالی کے بھائی تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ جب محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو ظفراللہ ان کے محافظ کے طور پر اپنے چچا سمیت ان کے ساتھ تھے۔

اگرچہ جمالی قبیلے کے کئی بااثر افراد پیپلز پارٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں لیکن ظفراللہ نے کبھی بھی مسلم لیگ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جماعت سے اتنی طویل رفاقت کے دعویدار کم ہی مسلم لیگی ہو سکتے ہیں۔

نامزد وزیر اعظم ابتدائی تعلیم سے یونیورسٹی تک پنجاب میں رہے۔ رائل کالج مری اور ایچیسن کالج لاہور سے ہوتے ہوۓ وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچے جہاں سے انہوں نے تاریخ میں ایم اے کیا۔

ظفراللہ کی شادی خاندان میں ہی ہوئی جس سے ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ دو بیٹے، شاہنواز اور جاوید، پاک فوج میں افسر ہیں جبکہ تیسرے، فریداللہ باپ کی طرح سیاست میں ہیں اور سن ستانوے میں رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔

ان کے قبیلے کا ایک بڑا حصہ بلوچستان کے علاوہ صوبہ سندھ میں بھی آباد ہے۔ یوں ان کا سیاسی اور قبائلی اثر و رسوخ دو صوبوں پر محیط ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا۔ ملک کی تاریخ میں کبھی بھی کسی بلوچ کو وفاق میں اہم ترین رتبے نہیں دئے گۓ۔

ظفراللہ اسٹیبلشمنٹ سے قریب ترین سیاستدان ہیں اور اس بنا پر ان کا نام اس سے پہلے بھی وزارت عظمیٰ کے لۓ تجویز ہوتا رہا ہے۔ وہ اس عہدے تک تو نہ پہنچ سکے لیکن وفاقی کابینہ کے علاوہ صوبے کی سب سے اہم پوزیشن پر کئی مرتبہ فائز رہ چکے ہیں۔

جنرل ضیاءالحق کی کابینہ میں وہ وزیر مملکت براۓ بلدیات رہے اور پھر جونیجو حکومت میں پانی اور بجلی کے امور کے وزیر۔ سن اٹھاسی میں وہ بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوۓ ۔ سن نوے میں منتخب ہونے کے بعد انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب تو برقرار رکھا لیکن اسمبلی توڑ دی جسے بعد میں عدالت کے حکم سے بحال کیا گیا۔ سن چھیانوے میں انہیں دوبارہ نگران وزیر اعلیٰ بنایا گیا اور یہ ذمہ داری پوری کرنے کے بعد وہ سینیٹ کے رکن بھی بنے۔

نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو جمالی قائد لیگ کے جنرل سیکریٹری بنے۔ مخالف دھڑے میں ہونے اور وزیر اعظم کی نامزدگی کے امیدوار ہونے کے باوجود وہ کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف (اور بینظیر بھٹو) کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہۓ۔

سیاستدان ہونے کے علاوہ جمالی ایک اسپورٹسمین بھی ہیں۔ جوانی کے دور میں انہوں نے سندھ بھر میں والی بال کے کئی ٹورنامنٹ منعقد کرواۓ اور یوں اس صوبے میں اس کھیل کو مقبول کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود والی بال کے اچھے کھلاڑی اور کرکٹ اور ہاکی کے شوقین ہیں۔ مختلف اوقات میں وہ ہاکی فیڈریشن کے صدر اور انتخابی بورڈ کے رکن بھی رہے ہیں۔

جمالی کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوۓ سیاستدان کی رہی ہے۔ وہ روایات کے پابند ہیں جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright