BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 19:05 - 04/12/2002
ہندو انتہا پسندی کے لئے چندہ امریکہ میں
آر ایس ایس پر مذہبی تشدد پھیلانے کا الزام ہے
آر ایس ایس پر مذہبی تشدد پھیلانے کا الزام ہے

تحریر: ابراہیم ساجد ملک، نیو یارک اور عارف آزاد، لندن

غیر سرکاری اداروں اور آزاد سیاسی کارکنوں کے مطابق بھارت میں امدادی کام کرنے والی کئی تنظیمیں امریکہ اور یورپ سے جمع کیے گۓ چندے کو شدت پسند ہندو جماعتوں کی مدد کے لۓ استعمال کر رہی ہیں۔

بھارت سے تعلق رکھنے والی دو غیر سرکاری تنظیموں، جنوبی ایشیا سٹیزن ویب اور سب رنگ کمیونیکیشن، کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں رجسٹرڈ اور ٹیکس سے مستثنیٰ ایک تنظیم انڈین ڈیویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ (آئی ڈی آر ایف) ، جمع کیے گۓ چندے کی اسی فیصد رقم ہندومت کا پرچار کرنے والی تنظیموں کو فراہم کرتی ہے جبکہ صرف بیس فیصد دیگر فلاحی تنظیموں کو دیا جاتا ہے۔

’نفرت کا زرِ مبادلہ‘ کے نام سے
  ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ رقم دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں جا پہنچتی ہے  
  ہریش کپور  
جاری کردہ اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلاح و بہبود اور معاشرتی ترقی کی غرض سے قائم کی جانے والی یہ تنظیم سیکولر نہیں بلکہ فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے اور اس کام کے لۓ وہ امریکی کمپنیوں اور عوام کے عطیات میں سے اب تک تقریباً پچاس لاکھ ڈالر فراہم کر چکی ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے افراد میں سے ایک، ہریش کپور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ رپورٹ ایک طویل تحقیق کا نتیجہ ہے۔ ’ہماری تحقیق تین براعظموں پر محیط تھی۔ ہم نے ضروری سمجھا کہ امریکہ میں بسنے والے نیک نیت لوگوں سے رفاعی کاموں کے بہانے جمع کی جانے والی رقم کے بارے میں تحقیق کی جائے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ رقم دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں جا پہنچتی ہے‘۔

آئی ڈی آر ایف کی فراخدلی سے فائدہ اٹھانے والوں میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، آر ایس ایس، اور اس سے وابستہ تنظیمیں شامل ہیں۔

تاہم آئی ڈی آر ایف کا دعویٰ ہے
  آر ایس ایس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور یہ الزام بائیں بازو کے حامیوں کا جھوٹ ہے  
  آئی ڈی آر ایف  
کہ وہ بھارت میں دیہی ترقی، قبائلی بہبود اور شہروں سے غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔
اس تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا آر ایس ایس سے کوئی تعلق نہیں اور اس سلسلے میں لگاۓ جانے والے الزامات بائیں بازو کے حامیوں کا جھوٹ ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے کے لیے ایک سو پچاس سے زائد ثبوت جمع کیے گئے جن میں سب سے اہم ٹیکس فارم ہیں۔ رپورٹ کو مرتب کرنے والوں نے آئی آر ڈی ایف کے ٹیکس فارمز کا حوالہ دیا اور کہا کہ جن نو اداروں کو رقوم بھیجی گئیں ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے اور اس تنظیم کے بانی بھسما اگنی ہوتری کا تعلق بھی آر ایس ایس سے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی آر ڈی ایف نے نہ صرف ٹیکس سن انیس سو ننانوے میں سِسکو سسٹم نے آئی آر ڈی ایف کو ستر ہزار ڈالر فراہم کیے تھےمعاف کرایا ہے بلکہ امریکی کمپنیوں سے سیکولر نظریات کے فروغ کے نام پر امداد بھی حاصل کرتی رہی ہے۔ اسے چندہ دینے والی کمپنیوں میں سِسکو سسٹم، سَن مائیکرو سسٹم، آریکل اور ہیولٹ پیکارڈ شامل ہیں۔ صرف سن انیس سو ننانوے میں سِسکو سسٹم نے آئی آر ڈی ایف کو ستر ہزار ڈالر فراہم کیے تھے۔ واضح رہے کہ سِسکو سسٹم میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد کام کرتی ہے۔

سیاسی کارکنوں نے اس رپورٹ کے ساتھ دس بین الاقوامی کمپنیوں کو خط بھی ارسال کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ آئی ڈی آر ایف کی مدد فوری طور پر بند کی جائے۔

ہریش کپور کا کہنا ہے: ’ہماری رپورٹ کے نتیجے مجھے امید ہے کہ برطانیہ میں بھی اسی قسم کی تحریک کا آغاز ہو گا کیونکہ برطانیہ میں دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کا اثر بہت زیادہ ہے۔ ہریش کپورمیں امریکہ میں ایک مہم شروع ہو گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ سے بھارت کی انتہا پسند تنظیموں کو ان فنڈز کی ترسیل بند ہونی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ برطانیہ میں بھی اسی قسم کی تحریک کا آغاز ہو گا کیونکہ برطانیہ میں دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کا اثر بہت زیادہ ہے۔ برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی انتہا پسند تنظیمیں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔‘

گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے کئی مسلمان خیراتی اداروں کو اس الزام کے تحت بند کر دیا کہ وہ دہشت گرد قوتوں کو چندہ فراہم کرتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے: ’دستاویزی ثبوت سے
  سیوا انٹرنیشنل کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ اس کا تعلق بھارت کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں سے ہے  
  عرفان مصطفےٰ  
یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آئی ڈی آر ایف نے کم از کم بھارت کی تین ریاستوں میں انتہا پسند تنظیموں کو رقوم بھیجی ہیں۔ گجرات میں آئی ڈی آر ایف نے وناسی کلیان آشرم کو بھی فنڈ مہیا کیا۔ یہ تنظیم انیس سو اٹھانوے سے دو ہزار کے درمیان عیسائیوں کے خلاف نسلی حملوں اور ان کے قتل عام میں ملوث رہی۔ یہی تنظیم ماضی قریب میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں بھی ملوث ہے۔‘

برطانیہ میں انڈین مسلم فیڈریشن کے ترجمان عرفان مصطفٰے نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے برطانوی دفترِ خارجہ کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے فنڈ جمع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے نتیجے میں ایوان بالا کے رکن لارڈ پٹیل سیوا انٹرنیشنل نامی ادارے کے بورڈ سے مستعفی ہو گئے۔

’سیوا انٹرنیشنل کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ اس کا تعلق بھارت کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں سے ہے اور بیرونی ممالک سے جمع شدہ رقم کا بڑا حصہ بھارت میں مذہبی اور فرقہ پرستی کا پرچار کرنے والی جماعتوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ہمیں دفتر خارجہ سے جواب موصول ہوا ہے جس میں ہمارے خدشات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔‘
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright