BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 01:12 - 18/12/2002
سافٹ ویئر چوری کے دفاع میں
’لائسینس والی سافٹ ویئر عوام کے اوپر ایک ظلم ہے‘
’لائسینس والی سافٹ ویئر عوام کے اوپر ایک ظلم ہے‘

تحریر: محمد ارسلان

بزنس سافٹ ویئر الائنس یا بی ایس اے نے بین الاقوامی سطح پر سافٹ ویئر کے غیر قانونی استعمال کیخلاف اقدامات کرنا شروع کردیۓ ہیں۔

اس سے پہلے بی ایس اے نے تمام اچھی شہرت کی حامل کمپنیوں سے کہا تھا کہ وہ دس دسمبر سے پہلے اپنے سافٹ ویئر کے لائسنس جاری کروالیں ورنہ کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی۔

بی ایس اے کے ارکان میں سے ایڈوبی، آٹو ڈیسک

مائیکرو سافٹ اور سائمنٹیک نے پاکستان کے نجی شعبے میں قانونی سافٹ ویئر کے استعمال کے لۓ مختلف رعایتوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ بی ایس اے کے ڈائریکٹرجواد الرداھ نے کہا کہ ”سافٹ ویئر کسی شخص یا کمپنی کی ملکیت اور اس کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے۔ کمپیوٹر پروگرامر سافٹ ویئر بنانے میں جو وقت صرف کرتے ہیں، سب لوگوں کو اس کا احترام کرنا چاہۓ”۔

انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں تو صرف بڑی بڑی کمپنیوں کو لائسنس کا اجراء کیا جا رہا تھا اور انہیں لائسنس لینے پر آمادہ کیا جا رہا تھا مگر اب سافٹ ویئر چوری کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاۓ گی۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا رجحان لوگوں میں ان دنوں زیادہ نظر آنے لگا ہے۔ اس ملک میں غربت کی وجہ سے ویسے تو چند فیصد لوگ ہی کمپیوٹر خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لۓ حکومتی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں۔

لیکن مقامی کاروباری حلقوں میں اب یہ

تشویش پائی جاتی ہے کہ بی ایس اے کے حالیہ اقدامات سے ان کا تھوڑا بہت دھندہ بھی ختم ہو جاۓ گا۔ کراچی کے رینبو سینٹر میں جہاں سب سے زیادہ سافٹ ویئر،گیمز اور فلمی سی ڈیز فروخت ہوتی ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایک غریب ملک میں اگر چوری کا سافٹ ویئر بھی اتنا کم استعمال ہوتا ہے تو لائسنس والے سافٹ ویئر کی فروخت تو نہ ہونے کے برابر رہ جائیگی اور ان کا کاروبار بالکل ٹھپ ہو جاۓ گا۔

رینبو ویڈیو کیسٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد عمر کا کہنا ہے: ’سافٹ ویئر پائریسی چند ممالک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ہماری بھی مجبوری ہے۔ اگر ہر شخص پر لائسنس والا سافٹ ویئر استعمال کرنے کی پابندی عائد کی گئی تو اس سے ملک وقوم کا نقصان ہو گا۔ یہاں کے بچے پڑھنے سے رہ جائینگے، جیسا کہ بین الاقوامی طاقتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان ترقی نہ کرسکے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپیوٹر پر درآمدی
  ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ترقی کرنے کے بعد لائسنس والا سافٹ ویئر استعمال کرنا شروع کردیں گے  
  ایسوسی ایشن کے محمد عمر  
ڈیوٹی ہٹانے سے یہاں کی کمپیوٹر مارکیٹ میں تیزی آئی ہے جو سافٹ ویئر لائسینس کی وجہ سے بالکل ختم ہو جائے گی اور اس کاروبار کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کمپیوٹر سے محروم ہوجائیں گے۔ اس وقت استعمال شدہ پینٹیم ون کمپیوٹر کی قیمت تقریباً تین ہزار روپے یعنی پچاس ڈالر کے قریب ہے جس کی وجہ سے کئی متوسط طبقے کے لوگوں کا کمپیوٹر استعمال کرنے کا خواب پورا ہوسکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ترقی پذیر ملک کو ترقی کرنے دیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ترقی کرنے کے بعد لائسنس والا سافٹ ویئر استعمال کرنا شروع کردیں گے۔

رینبو سینٹر میں موجود خریدار محمد عمر سے پوری طرح متفق ہیں۔ بارہ سالہ سلیمان کا کہنا ہے: ’ہم پچیس روپے کی سی ڈی تو خرید لیتے ہیں مگر پچیس ڈالر یعنی پندرہ سوروپے کی چیز نہیں خرید سکتے کیونکہ ہمارے بابا نوکری کرتے ہیں اور ہم کم خرچ میں کچھ زیادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سی ڈیز لیجا کر خود پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ایک اور خریدار عبدالکریم کا کہنا ہے کہ لائسینس والی سافٹ ویئر عوام کے اوپر ایک ظلم ہے۔ ’پاکستان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو لائسنس والا سافٹ ویئر استعمال کر سکتے۔ ان کمپنیوں کو چاہۓ کہ پاکستان کے حساب سے سافٹ ویئر کی قیمتیں رکھیں کیونکہ ہم لوگوں کو امیر ملکوں کے برابر تنخواہ ملتی ہے نہ ہی ہماری کرنسی اتنی مستحکم ہے کہ ہم لائسنس والے سافٹ ویئر مہنگے داموں خرید سکیں‘۔

کاروباری لوگوں اور خریداروں کے
  اگر لائسنس کا مسئلہ آیا تو پاکستان میں جو اتنا زیادہ ٹیلنٹ دیکھا جاتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر رہ جاۓ گا  
  طالبعلم مشتاق منصور  
علاوہ طلبہ اور اپنا کام کرنے والے بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ بیچلر آف کمپیوٹر سائنس یا بی سی ایس کرنے والے مشتاق منصور علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مختلف سافٹ ویئر پر ایک ہی آدمی کے کام کرنے کی وجہ صرف یہ ہی کہ یہاں پر کم قیمت میں بہت سارے سافٹ ویئر آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر لائسنس کا مسئلہ آیا تو پاکستان میں کمپیوٹر کی دنیا میں جو اتنا زیادہ ٹیلنٹ دیکھا جاتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر رہ جاۓ گا۔

کراچی یونیورسٹی سے بیچلر آف سافٹ ویئر سائنس یا بی ایس ایس کی ڈگری حاصل کرنے والے ابو بکر کا کہنا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیوں پر ضرور نظر رکھنی چاہۓ کہ وہ لائسنس والا سافٹ ویئر ہی استعمال کریں مگر ہر فرد پر اس طرح کی پابندیاں لگانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو سافٹ ویئر کی دنیا سے الگ کر دیا جاۓ۔

تاہم یہ بھی ہے کہ جہاں ایک بڑی تعداد سستا سافٹ ویئر خریدنے پر مجبور ہے وہاں خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہیں جن کے لۓ قیمت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اے سی سی اے کی طالبہ نجمہ منظور کا کہنا ہے کہ انہیں جس سافٹ ویئر کی ضرورت ہو گی وہ چوری کا ملے یا اصلی، وہ اسے خرید لیں گی۔

پاکستان میں جب سے سافٹ ویئر آنا شروع ہوۓ وہ چوری کے ہی تھے۔ جو سافٹ ویئر چوری نہیں ہوا وہ اس ملک میں پروان بھی نہیں چڑھ سکا۔ پاکستان ڈیٹا بیس مینیجمنٹ سسٹم کا بنایا ہوا سافٹ ویئر اردو 98 صرف چند ہی کمپنیوں کے استعمال میں رہ گیا ہے۔



ان دنوں پاکستان میں ایک چوری شدہ سافٹ ویئر کی سی ڈی تقریباً پچیس روپے یعنی پچاس سینٹ میں ملتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لائسنس والا سافٹ ویئر ایک ہزار ڈالر یعنی ساٹھ ہزار روپے کے قریب ہے۔

واضح رہے کہ سن اٹھانوے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں پاکستان سمیت چار ممالک نے درخواست دی تھی کہ ان کی غربت دیکھتے ہوۓ انہیں کاپی رائٹ قانون سے کم از کم چالیس سال تک دور رکھا جاۓ۔



 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright