BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 11:48 - 11/04/2003
اک دلہا چاہئیے آن لائن
یورپ میں انٹرنیٹ ڈیٹنگ کا رحجان کئی سال سے زوروں پر ہے
یورپ میں انٹرنیٹ ڈیٹنگ کا رحجان کئی سال سے زوروں پر ہے

برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں میں بسنے والے زیادہ تر ایشیائی نوجوان والدین کی پسند سے شادی کو ترجیح دیتے رہے ہیں لیکن حالیہ سالوں میں مغربی معاشرے کی دیکھا دیکھی ان میں بھی ای میل اور انٹرنیٹ کی مدد سے شریک حیات ڈھونڈنے کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں برطانیہ میں ’کچھ کچھ ہوتا ہے ڈاٹ کام‘ اور ’ای میل فارلو ایشیاء ڈاٹ کام‘ جیسی کئی ویب سائٹ سامنے آئی ہیں اور نوجوان نسل میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے زبردست اشتہاری مہم چلا رہی ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی میل نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں ان برطانوی نژاد ایشیائی خواتین کے انٹرویو شائع کئے ہیں جنہوں نے آن لائن ڈیٹنگ سروس سے استفادہ کیا ہے۔ اخبار نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اس نئے رجحان پر پرانی نسل کا ردعمل کیسا ہے۔

  مغرب میں جوان ہونے والی میرے جیسے لڑکیاں اپنی روایات کا احترام کرتی ہیں۔ لیکن یہ تو سب کو ماننا پڑے گا کہ زندگی بحرحال ہماری اپنی ہے اور میں نے خود ہی اسےگزارنا ہے  
  شازیہ مغل  

تعلقات عامہ کے شعبے سے منسلک پینتیس سالہ فوزیہ نسیم کا کہنا ہے کہ جب پہلی دفعہ ان کی والدہ کو یہ معلوم ہوا کہ میں انٹرنیٹ کی مدد سے بر تلاش کر رہی ہوں تو بہت ناراض ہوئیں۔ ان کا پہلا ردعمل تھا ’لوگ کیا کہیں گے‘۔

’لیکن جب میں نے انہیں سمجھایا کہ لوگوں کے منہ کون بند کر سکتا ہے، اگر میں سرسے پاؤں تک سیاہ برقعہ اوڑھ لوں تو بھی لوگ نکتہ چینی کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیں گے۔ خاندان چاہے جو بھی سوچے میں نے شادی اسی طرح کرنی ہے۔ میری اس دلیل پر وہ مان گئیں‘۔

فوزیہ کا کہنا ہے کہ ان کے والدین پیتالیس سال پہلے پاکستان سے برطانیہ آۓ تھے۔ ’جب میں سکول جانے لگی تو زیادہ تر گورے میرے دوست بنے اور میرے خاندان کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ میں بہت زیادہ ’مغربی‘ ہو گئی ہوں۔

’سولہ سال کی عمر میں مجھے پاکستان لے جا کر ایک دور کے کزن سے متعارف کرایا گیا اور پانچ سال بعد اکیس سال کی عمر میں میری اسی سے شادی کردی گئی۔ شادی کے چھ سال بعد ہماری علیحدگی ہو گئی‘۔

  جب پہلی دفعہ میری والدہ کو یہ معلوم ہوا کہ میں انٹرنیٹ کی مدد سے بر تلاش کر رہی ہوں تو بہت ناراض ہوئیں۔ ان کا پہلا ردعمل تھا: لوگ کیا کہیں گے!  
  فوزیہ نسیم  

اس کے بعد فوزیہ نسیم نے ایک اور شادی کی، لیکن یہ بھی صرف تین سال ہی چل سکی۔اب وہ انٹرنیٹ کے ذریعے شریک حیات تلاش کر رہی ہے۔

انٹرنیٹ ڈیٹنگ کے بارے میں اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ڈیٹ لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پر ہوئی۔ اس سے پہلے کئی ہفتوں سے وہ ای میل کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر تے آ رہے تھے۔

’وہ ایک پروفیشنل شخص تھا اور ملاقات ٹھیک ٹھاک جا رہی تھی۔ وہ میرے لئے پھول لایا اور مجھے ایک عمدہ ریسٹورنٹ میں لے کر گیا۔ پھر اچانک اس نے یہ تجویز دی کہ ڈنر کے بعد میں اس کے فلیٹ میں جاؤں۔ اس بات پر ہمارے درمیاں تو تو میں میں شروع ہوگئی اور میں وہاں سے چلی آئی‘۔

ستائیس سالہ شازیہ مغل ایک پاکستانی روایتی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک لیگل سیکریٹری کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے والدین کی شادی روایتی انداز سے ہوئی تھی اور انہوں نے شادی کے دن سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔

’جب انہیں معلوم ہوا کہ میں انٹر نیٹ کے ذریعے لڑکا تلاش کر رہی ہوں توآپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا رد عمل کیا ہوا ہوگا۔ انہوں نے اس سے پہلے میری شادی ایک دور کے رشتہ دار سے کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت میری عمر سولہ سال تھی۔ اس کی اچھی نوکری تھی اور ان کے خیال میں وہ میرے لئے اچھا خاوند ثابت ہو سکتا تھا۔ لیکن جب مجھے ان کے منصوبوں کا علم ہوا تو میں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور اپنے والدین سے فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت مانگا۔ ایک اجنبی شخص سے شادی کرنے کے تصور سے بھی مجھے خوف آنے لگا۔ بعد میں میرے والدین میرے بات مان گئے اور اپنے ارادوں سے باز رہے‘۔

انٹرنیٹ ڈیٹنگ ویب سائٹ کے بارے میں اپنے تجربے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ویب سائٹ کی رکنیت کے لئے تین ماہ بعد تیرہ پاؤنڈ دینا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق شروع میں انہوں نے اپنے والدین کو کچھ بھی نہیں بتایا اور اپنی ایک کزن کو اپنا رازدار بنا لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ویب سائٹ پر اپنی تصویر اور تعارفی نوٹ لگایا تو اس کے جواب میں مجھے بہت پیغامات آئے ان میں سے زیادہ تر لڑکے پاکستان اور دوسرے ملکوں سے تھے۔ بعد ازاں میں نے اپنے تعارفی نوٹ میں ترمیم کی کہ میں صرف برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لڑکوں سے ملنا چاہتی ہوں۔

شازیہ مغل کا کہنا ہے کہ جن لڑکوں سے اس کا رابطہ ہوا ہے وہ اس بات کو بہت سراہتے ہیں کہ میں عام پاکستانی لڑکیوں سے مختلف ہوں۔ زیادہ آزاد خیال ہوں، جینز اور ٹی شرٹ پہنتی ہوں، کئی گورے دوست ہیں لیکن اپنے ہم مذہب کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔

’بعد میں جب میرے والدین کو اس بات کا علم ہوا کہ میں انٹرنیٹ کے ذریعے شریک حیات تلاش کر رہی ہوں تو انہیں بہت غصہ آیا۔ لیکن میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ میں صرف مسلمان لڑکے کے ساتھ ہی ملاقات کروں گی‘۔

’مغرب میں جوان ہونے والی میرے جیسے لڑکیاں اپنی روایات کا احترام کرتی ہیں۔ لیکن یہ تو سب کو ماننا پڑے گا کہ زندگی بحرحال ہماری اپنی ہے اور میں نے خود ہی اسے گزارنا ہے‘۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright