BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 13:15 - 25/04/2003
پاکستان: انٹرنیٹ پر حملے
یاہا وائرس نے پاکستانی ویب سائٹوں کو حال میں نشانہ بنایا ہے
یاہا وائرس نے پاکستانی ویب سائٹوں کو حال میں نشانہ بنایا ہے

تحریر: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان حکومت کی ویب سائیٹس اور انٹرنیٹ نظام ہیکرز کے حملوں اور یاہا وائرس کی زد میں آ رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ کا پورا نظام بار بار سست ہوجاتا ہے یا کچھ دیر کے لیے بند بھی ہوجاتا ہے ـ

انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں (آئی ایس پیز) کا کہنا ہے کہ چار اپریل کو تو ملک میں انٹرنیٹ کا نظام سولہ گھنٹے کے لیے بند رہا ـ

انٹرنیٹ کے نظام میں، جو کہ سرکاری ٹیلی فون کمپنی (پی ٹی سی ایل) کے ذریعے چل رہا ہے ، بار بار رخنہ پڑنے کے خلاف ملک میں آئی ایس پیز نے اڑتالیس گھنٹے کی ہڑتال کرنے کی دھمکی دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مرکزی انٹرنیٹ ایکسچینج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے ـ

پی ٹی سی ایل (شمالی ریجن) کے انٹرنیٹ کے چیف ایگزیکٹو ناصر اقبال نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ”یہ بات صحیح ہے کہ ڈوس (ڈنائل آف سروس) یا انٹرنیٹ سروس جام کرنے کی کوشش کے حملے حکومتی ویب سائٹس پر ہورہے ہیں جس سے اتنے زیادہ پیغامات پورے نظام میں آجاتے ہیں کہ ساری ٹریفک جام ہوجاتی ہے ـ ”

ڈنائل آف سروس حملے ا س طرح کئے جاتے ہیں کہ کسی نیٹ ورک یا انٹرنیٹ نظام کو آپ ارادتاً اتنے زیادہ پیغامات بھیجیں (فلڈنگ) کہ حقیقی صارفین کے پیغامات پیچھے رہ جاتے ہیں یا نیٹ ورک تک انکی رسائی ہی مشکل ہوجاتی ہے۔

یاہا وائرس بھارتی ہیکروں نے بنایا اور اس کا مخصوص ہدف حکومت پاکستان کی ویب سائٹس مقرر کیا گیا تھا۔

آئی ایس پیز کی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کا نظام سو فیصد پی ٹی سی ایل پر منحصر ہے اس لیے انٹیرنیٹ ٹریفک میں رخنہ پڑنے سے ان کے کاروبار کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ـ

نعیم حق نے، جو لاہور میں ایک بڑے آئی ایس پی کے منتظم اور آئی ایس پیز کی ایسوسی ایشن (آئی ایس پی اے کے) کے شمالی

اکثر وائرس ای میل کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں
ریجن کے نائب صدر ہیں ،بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ”ہندوستان اور پاکستان کی جنگ سائیبر اسپیس تک جا پہنچی ہے اور چند مہینے پہلے ہندوستان کے ہیکرز نے ایک ای میل پیغام کے ذریعے یہ دھمکی دی کہ وہ پاکستان حکومت کی ویب سائیٹوں پر حملہ کریں گے ـ”

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی سی ایل نے اس دھمکی کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور دوسری طرف سے حملے شروع ہوگۓ ـ ان کا کہنا ہےکہ یاہا نامی ایک وائرس بنایاگیا جس کا ہدف پاکستان کی سرکاری ویب سائیٹس ہیں جن کے انٹرنیٹ پتے (یو آر ایل) کے آخر میں ’جی او وی ڈاٹ پی کے’ (gov.pk) آتا ہے ـ

آئی ایس پی کے منتظم کا کہنا ہے کہ دشواری یہ ہوئی کہ یہ سرکاری ویب سائیٹس ایک نیم سرکاری ادارہ کومسیٹس چلاتا ہے اور ملک میں کام کرنے والے باقی آئی ایس پیز کی طرح یہ بھی پی ٹی سی ایل کی بینڈوڈتھ کے ذریعے کام کرتا ہے ـ

آئی ایس پی ایسوسی ایشن کے مطابق ہوتا یہ ہے کہ جو وائرس کومسیٹس کی ویب سائٹ پر حملہ آور ہوتا ہے وہ پورے نظام میں سے گزرتا ہے اور اسے جام کردیتا ہے ـ پاکستان کے بیشتر انٹرنیٹ سروس پرووائڈر پی ٹی سی ایل کے ذریعے ہی کام کرتے ہیں کیونکہ اس کے نرخ بہت کم ہیں ـ

نعیم حق کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل کے راؤٹرز ، وہ مشینیں جو انٹرنیٹ ٹریفک کو ملک سے اندر اور باہر گزارتی ہیں ، پر بہت زیادہ بوجھ ہے ، اس لیے پی ٹی سی ایل ڈوس کے حملوں سے پورے نظام کو متاثر ہونے سے نہیں بچا سکا ـ

تاہم پی ٹی سی ایل کے انجینیر کا کہنا ہے کہ ڈوس کا حملہ ایسا ہوتا ہےکہ کوئی بھی راؤٹر اس کو برداشت نہیں کرسکتا ـ

آیی ایس پیز کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرے یہ ہوا کہ حال ہی میں پی ٹی سی ایل نے فحش ویب سائیٹس کا راستہ روکنے کے لیے فلٹر لگا دیے جو ’ممنوعہ‘ ویب سائیٹوں تک رسائی روکتے ہیں اور ہر پیغام کی ’جانچ‘ پڑتال کرکے گزرنے کی اجازت دیتے ہیں ، اس سے پورا نظام اور بھی سست ہوجاتا ہے ـ

ایک عہدیدار نے کہا ’دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں فحش اور عریاں ویب سائیٹیں ہیں جن کا راستہ روکنا عملاً ممکن نہیں ـ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوسکا ـ اس سے عام آدمی زیادہ متاثر ہوجاتا ہے ـ‘

پی ٹی سی ایل کے چیف انجینیر (شمالی) نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حکومت نے کومسیٹس سے کہا ہے کہ چونکہ حملوں کا ہدف ان کے زیر انتظام ویب سائیٹس ہیں اس لیے وہ فی الحال ان ویب سائیٹس کے لیے پی ٹی سی ایل کے ایکسچینج کا استعمال نہ کریں اور ان کے پاس جو ایک آزادانہ انٹرنیشنل لائن ہے اس کے ذریعے کام کریں ـ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے چند روز ہوگۓ حملے تو اب بھی آرہے ہیں لیکن ان کا اثر باقی نظام پر نہیں پڑ رہا ـ

چیف انجینئر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور بڑا راؤٹر منگوالیا ہے جو چھہ ہفتے تک پہنچ جاۓ گا ، اس سے بھی نظام بہتر ہوجاۓ گا ـ

اس کے علاوہ ، پی ٹی سی ایل نے مزید بینڈ وڈتھ (ایک سو پچپن ایم بی) کا انتظام کیا ہے جو ابھی ٹیسٹ کے مرحلہ میں ہے اور ایک ہفتہ تک کام شروع کردے گی ـ

بینڈوڈتھ میں دو نئے اضافوں سے انٹرنیٹ نظام کے پیغامات کی رسانی کے لیے دو الگ الگ اور بڑے راستے بن جائیں گے اور سب ٹریفک ایک ہی راستے سے نہیں گزرے گی ـ اس لیے اگر کوئی ہیکر ایک راستے سے حملہ کرتا ہے تو اس کا اثر سارے نظام پر نہیں پڑے گا ـ

ڈوس اور یاہا وائرس کے ذریعے ہیکرز نے پاکستان کی سرکاری ویب سائیٹس پر حملہ کرکے پاکستان کے انٹرنیٹ نظام کو پچھلے کئی ہفتوں سے متاثر تو کیا ہوا ہے لیکن فائدہ یہ ہوا کہ سرکاری ٹیلی فون کمپنی (پی ٹی سی ایل کمپنی) نے بالاآخر انٹرنیٹ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات تو کئے ہیں ـ
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright