BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 11:54 - 30/05/2003
روایتی رشتے،جدید طریقے
’بزرگ بھی آہستہ آہستہ مان جائیں گے‘
’بزرگ بھی آہستہ آہستہ مان جائیں گے‘

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جدید دور میں ’ارینجڈ میرج‘ یعنی خاندان کے ذریعے طے کی جانے والی شادی کے لئے انٹرنیٹ کا سہارا لے رہی ہے۔

جدید دور میں جب بہت سے لوگ دیار غیر میں مختلف مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان رہ رہے ہیں روائیتی طریقے سے لڑکے یا لڑکی کے لئے پسند کا رشتہ ڈھونڈنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سی ویب سائٹ بنائی گئی ہیں جن پر پسند کا شریک حیات تلاش کیا جا سکتا ہے۔

مسلم میچ ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلانے والی عائشہ سعید کا کہنا ہے کہ مسلم میچ ڈاٹ کام ایک بین الاقاوامی سائٹ ہے جو ہفتے کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے چلنے کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی حصے میں بسنے والے لوگوں کے لئے موزوں ہے۔

اس طرح کی ویب سائٹ میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ شادی کے معاملے میں بہت لوگ بہت ’نخریلے‘ ہو گئے ہیں۔ وہ شریک حیات کے بارے میں فیصلے کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں۔

برطانیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں زیادہ تر لڑکیاں کام کرنے کی خاطر شادی موخر کرتی ہیں اور بعد میں جب وہ شادی کے لئے رضا مند ہوجاتی ہیں تو پھر بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر ان کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے۔

عائشہ نے کہا کہ ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کا صرف اپنی ذات اور علاقے کے لوگوں سے ہی رابطہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنا ہم خیال بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانی نسل کے لوگوں کے لئے یہ تبدیلیاں ہضم کرنا فی الحال ذرا مشکل ہوگا لیکن وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائیں گے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright