BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 13:31 - 08/06/2003
سفید فام مغل
دہلی کے سر رچرڈ آرچٹرلونی کے فرصت کے لمحات
دہلی کے سر رچرڈ آرچٹرلونی کے فرصت کے لمحات

تحریر: انیتا داؤد نصر

انہیں تاریخ کے اوراق سے خارج کر دیا گیا، برطانیہ میں وکٹوریائی دور کے بعد کے احوال سے وہ ایسے غائب ہیں جیسے ان کے ذکر پر سنسر لگ گیا ہو، لیکن سلطنتِ مغلیہ کے مصوروں کے فن پاروں نے اِن ’سفید فام مغلوں‘ کی یاد کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

یہ سفید فام مغل یورپی مرد تھے اور اِن میں سے بہت سوں کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں ہندوستان آئے تھے یا یہ کسی دربار میں برطانیہ کے سفیر متعین کئے گئے تھے لیکن ہندوستان پہنچ کر انہوں نے ’مقامی‘ تشخص اختیار کر لیا تھا۔

مغلیہ معاشرے میں دولت کی ریل پیل کا سن کر کھنچے

ریاست حیدرآباد کے انگریز سفیر کی بیوی خیرالنساء
چلے آنے والے ان ’سفید فام‘ مغلوں نے ہندوستانی خواتین سے شادیاں رچائی اور خاندانوں کی بنیاد ڈالی۔ ان میں بہت سے اپنی بیویوں کا مذہب اختیار کر کے مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے ختنے کرائے اور مغلیہ پہناوا اپنا لیا۔ فرصت کے اوقات میں یہ لوگ پان کھاتے تھے، حرم میں وقت گزارتے تھے اور اردو اور فارسی شاعری کا مطالعہ کرتے تھے۔

ولیم ڈیل رمپل کی کتاب ’سفید فام مغل‘ میں اسی ثقافتی تبدیلی کے دور کا احاطہ کیا گیا ہے جس کا ذکر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قوم پرستوں اور سامراجی انگریزوں کے لئے قابل قبول نہیں رہا تھا۔ یہ ڈیل رمپل کی پانچویں کتاب ہے۔ اسے پہلے بھی وہ ہندوستان کے بارے میں دو کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت دہلی اور لندن میں گزرتا ہے۔

ڈیل رمپل ہندوستان کی ریاست حیدرآباد میں چھٹیاں گزار رہے تھے کہ انہیں سن سترہ سو ستانوے اور اٹھارہ سو پانچ کے درمیان ریاست میں برطانوی سفیر جیمز کرک پیٹرک کی ایک شیعہ لڑکی سے شادی اور مذہب کی تبدیلی کے بارے میں پتہ چلا۔

کرک پیٹرک مقامی لباس پہنتے تھے، انہوں نے ہندوستانی انداز میں مونچھیں بڑھا لی تھیں اور ان کی سب سے حیرت انگیز حرکت یہ تھی کہ انہوں نے سخت پردے میں رہنے والی ایک شیعہ لڑکی سے عشق رچایا۔چودہ سالہ خیرالنساء کرک پیٹرک سے حاملہ بھی ہو گئی تھی۔

کرک پیٹرک نے برطانوی حکام کی ناپسندیدگی کے

ریاست حیدرآباد کے سفیر کرکپیٹرک
باوجود خیرالنساء سے نہ صرف شادی کی بلکہ وہ شیعہ مسلمان ہو گئے جس کے بعد انہیں مغل معاشرے میں قبول کر لیا گیا۔ ڈیل رمپل کہتے ہیں کہ مغل معاشرہ دنیا میں اُس زمانے کا سب سے مہذب معاشرہ تھا۔

کرک پیٹرک اور خیرالنساء کی کہانی سن کر ڈیل رمپل کو تجسس ہوا اور انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ میں اس طرح کی مزید کہانیوں کی تلاش میں تاریخی ریکارڈ کی چھان بین شروع کر دی۔ انہیں اندازہ ہوا کے انیسویں صدی سے پہلے اونچی ذات کے انگریز اور انگلستان کے اعلیٰ حکام کا ہندوستان جا کر ’مقامی‘ ہو جانا موجودہ دور کے مؤرخوں کے اندازے سے زیادہ عام بات تھی۔ بہت سے انگریزوں کے وصیت نامے پڑھ کر انہیں پتہ چلا کہ ہر تیسرے شخص نے اپنی ہندوستانی بیوی اور بچوں کے نام کچھ نہ کچھ چھوڑا تھا۔

تاریخ کے اوراق کھنگالتے ہوئے ڈیل رمپل کے لئے سب سے زیادہ حیرت انگیز انکشاف یہ تھا کہ ان کی رگوں میں بھی ہندوستانی خون شامل ہے کیونکہ ان کے ایک بزرگ نے بھی چند نسلوں پہلے ایک ہندوستانی خاتون سے شادی کی تھی۔

ڈیل رمپل کو تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ بہت سی ہندوستانی خواتین انگریزوں سے شادی کر کے ان کے ساتھ ولایت بھی گئی تھیں۔ ان خواتین کو مغلیہ معاشرے کی طرف سے باہر کے مرد سے شادی کرنے پر کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا، ان کی عزت و توقیر میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی بلکہ اکثر اوقات ان کی پذیرائی ہوتی تھی۔

ایسی شادیاں ایک حقیقی کثیرالثقافتی معاشرے کی مثال تھیں جس میں ایک ہی خاندان میں دو قسم کے رسم و رواج رائج تھے۔ گوری رنگت والے بچوں کو تعلیم کے لئے انگلستان بھیج دیا جاتا تھا جہاں وہ برطانوی کہلاتے تھے اور ان کی پرورش عیسائیوں کی طرح ہوتی تھی جبکہ ان کے گہری رنگت والے بہن بھائی ہندوستان میں رہتے تھے اور ان کا مذہب اسلام تھا۔

اس طرح کے بچوں کے درمیان خط و کتابت جاری رہتی تھی اور بعض اوقات اس میں مترجم کی مدد بھی لی جاتی تھی۔

زوال پذیر مغلیہ سلطنت کے پس منظر میں ڈیل رمپل نے دو ایسے معاشروں کی تصویر کشی ہے جن میں باہمی لحاظ تھا۔ لیکن وکٹوریائی دور کے دوران کم ہوتا گیا اور سن اٹھارہ سو ستاون کے غدر جسے ہندوستانی جنگ آزادی کہتے ہیں کے بعد یہ ختم ہو گیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ غدر کے بعد انگریزوں اور ہندوستانیوں کے لئےدو دنیاؤں میں رہنا مشکل ہوگیا، اورانہیں فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ ہندوستانی ہیں یا انگریز۔

اٹھارہ سو ستاون کے بعد برطانیہ نے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کیا اور مقامی لوگوں اور انگریزوں کے درمیان میل ملاپ بند ہو گیا۔ نتیجتاً ماضی میں اس طرح کے میل ملاپ اور شادیوں کے بارے میں دستاویز ریکارڈ سے نکال دی گئیں۔ ڈیل رمپل کی تحقیق بتاتی ہے کہ وصیت ناموں اور آپ بیتیوں سے پورے پورے متن نکال دیئے گئے۔

گزشتہ سال لندن میں ایک مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈیل رمپل نے اسلام اور مغرب کی ایک دوسرے کے بارے میں کم علمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا اسلام اور مغرب ماضی میں مختلف ثقافتوں کے ملاپ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور تاریخ کے ایسے کرداروں کی یاد کو زندہ کرنے کے لئے اب سے زیادہ ضرورت شاید پہلے کبھی نہ تھی۔

تصاویر بشکریہ ناشر ہارپر کالنز
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright