BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 18:21 - 12/06/2003
آؤٹ سورسِنگ پر پابندیوں کی مخالفت
مائیکروسوٹف بھی ہندوستان میں آؤٹ سورسِنگ کررہا ہے
مائیکروسوٹف بھی ہندوستان میں آؤٹ سورسِنگ کررہا ہے

ہندوستان نے امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو ان کوششوں کے خلاف انتباہ کیا ہے جن کے تحت آؤٹ سورسِنگ یعنی کم اجرت پر کام کرانے کے لئے غریب ملکوں میں ٹھیکہ دینے کے رجحان پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

آؤٹ سورسِنگ کی پالیسی کے تحت ترقی یافتہ ملکوں کے بڑے بڑے تجارتی اور مالیاتی ادارے ان غریب ملکوں میں اپنا کام کرانے کے لئے ٹھیکہ دیتے ہیں جہاں کم سے کم اجرت پر تربیت یافتہ افرادی قوت مہیاء ہوسکے۔

ملک میں انٹرنیٹ کمپنیوں کے فروغ کے لئے کام کرنے والے ادارے

آؤٹ سورسِنگ، ایک نئی تجارت
نیسکوم یعنی نیشنل ایسوسی ایشن آف سوفٹویئر ایند سرویسز کمپنیز کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ملک اپنی کمپنیوں کی آؤٹ سورسِنگ کی پالیسیوں پر پابندیاں عائد کرتے ہیں تو ان کی ملکی صنعت کو نقصان پہنچے گا۔

تاہم جنوبی شہر بنگلور میں ہندوستان کے انفورمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری راجیو رتن شاہ نے کہا کہ آؤٹ سورسِنگ بین الاقوامی تجارت میں ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں اسے روکا نہیں جاسکتا۔

امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں ملازمین کے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کم پیسے میں کام کرانے کی خاطر کمپنیاں اپنے ٹھیکے ہندوستان جیسے ملکوں میں واقع تجارتی اداروں کو دیتی رہیں تو خود ان کے ملک میں لوگ کافی تعداد میں بےروزگار ہوجائیں گے۔

راجیو رتن شاہ کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کے سامنے اب ایک کشمکش ہے کہ آیا وہ اپنے ملکوں میں ملازمتیں زیادہ تعداد میں ختم کردیں یا کم ملازمتیں ختم کرنے کے بدلے دوسرے ملکوں میں ٹھیکہ دیں اور اپنا منافع برقرار رکھیں۔

ترقی یافتہ ملکوں کی ان چند کمپنیوں میں جو ہندوستان میں اپنے ٹھیکے اس لئے دے رہی ہیں کہ وہاں کم پیسہ خرچ ہوتا ہے، سٹی بینک، جنرل الیکٹرک، امریکن ایکسپریس، ڈیل، پروڈینشیل، برٹِش ٹیلیکوم، جے پی مورگن، ایچ ایس بی سی اور میرل لِنچ شامل ہیں۔

برطانیہ میں اس بات کی تحقیق کی جارہی ہے کہ آؤٹ سورسِنگ کی وجہ سے ملک میں کتنی ملازمتیں ختم ہورہی ہیں۔ ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی صنعت سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں اس طرح کے ٹھیکے زیادہ تعداد میں غریب ملکوں میں واقع تجارتی اداروں کو دے رہی ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright