BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 16:48 - 13/06/2003
لگے آگ اس محبت کو۔۔۔
دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے تشویش بڑھ رہی ہے
دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے تشویش بڑھ رہی ہے

بھارت کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے خود کو انٹرنیٹ پر عورت ظاہر کرتے ہوئے ابو ظہبی کے ایک سادہ لوح شخص کو بیوقوف بنا کر اس سے ایک کروڑ روپے لوٹ لئے۔ ملزم پرناب مترا کو چوبیس جون تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے سربراہ ستیا پال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ممبئی میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے متعلق جرائم کا ایک بہت انوکھا مقدمہ ہے۔ ملزم پرناب نے، جسے بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، اپنے کئی جعلی ای۔میل پتے تخلیق کررکھے تھے جن کے ذریعے وہ ابو ظہبی میں مقیم اپنے نام نہاد عاشق کو بیوقوف بناتا رہا۔

پولیس کے مطابق ملزم، جو سیمنٹ بنانے والے ایک کارخانے کا سابق انتظامی افسر ہے، اپنے اس انٹرنیٹ معاشقے کا آغاز ٹھیک ایک برس قبل کیا تھا۔ ممبئی پولیس کی تاریخ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے متعلق جرائم کے تحت درج ہونے والے اس پہلے مقدمے کا شکار اور اس داستان کے دوسرے کردار ابو ظہبی میں مقیم تعمیراتی امور کے مشیر ونے مناوے کا ملزم سے پہلا رابطہ تب ہوا جب انٹرنیٹ کے ذریعے ان دونوں کی ملاقات ایک دوسرے سے ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو محبت بھرے پیغامات بھیجنے شروع کئے۔

ملزم مترا نے، جو خود کو ریٹا باسو نامی ایک لڑکی ظاہر کرتا رہا، اپنے نام نہاد عاشق اور مالدار شکار ونے کو ملاقات کے لئے ممبئی آنے کی دعوت تک دے ڈالی لیکن ملاقات کے وقت طے شدہ مقام پر نہ پہنچا۔ آخر کار اس کا سادہ لوح شکار واپس ابو ظہبی لوٹ گیا۔

مگر شاطر مترا نے اب پینترا بدلہ اور ونے کو ای۔میل کے ذریعے ایک اور انٹرنیٹ پیغام بھیجا، جس میں اس نے الٹا ونے کو موردِ الزام ٹھرایا کہ وہ ملاقات کے وقت اور مقام پر نہیں آیا اور دھمکی دی کہ اب ریٹا (جو دراصل خود مترا ہی تھا) خودکشی کررہی ہے۔

اس صورتحال سے گھبراجانے والے ونے نے مترا کی ایک دوست روچرا سین گپتا کو، جو اصل میں ونے سے انٹرنیٹ ہی کے ذریعے متعارف ہوئی تھی، ایک انٹرنیٹ پیغام بھیجا جس میں اسے ساری صورتحال لکھ بھیجی۔مگر یہ بھی کوئی اور نہیں بلکہ خود مترا ہی تھا۔ اب روچرا سین گپتا بن کر مترا نے ونے کو بتایا کہ ریٹا نے تو پہلے ہی کلکتہ جاکر خودکشی کرلی ہے اور اب پولیس کو شبہ ہے کہ عشق میں دلبرداشتہ ہوکر کی جانے والی اس خودکشی کے پیچھے ونے کا ہی ہاتھ ہے۔

جھوٹ میں لپٹی اس سنسنی خیز داستان عشق کو ایک نیا موڑ دیتے ہوئے اب مترا نے انٹرنیٹ پر روچرا کا کردار ادا کرتے ہوئے ونے کو لکھا کہ وہ اس صورتحال میں ونے کی مدد کرسکتی ہے اسے اپنے ایک وکیل دوست سے متعارف کرایا۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ یہ وکیل بھی کوئی اور نہیں بلکہ ایک بار پھر خود ملزم مترا ہی تھا۔

ساری کہانی گھڑ کر مترا نے کلکتہ پولیس اور ہائی کورٹ کے جعلی ای۔میل پتے تخلیق کئے۔ اس نے ان جعلی پتوں کے ذریعے ونے کو پیغام بھیجا کہ پولیس اور عدالتی اہلکار جلد ہی ونے کو ریٹا نامی لڑکی کی ہلاکت کے سلسلہ میں عدالت میں طلب کرنے والی ہے۔

اسی دوران چالاک مترا نے وکیل کا کردار ادا کرتے ہونے سے یہ کہتے ہوئے بھاری رقم طلب کی کہ وہ اس کی گرفتاری اور ابو ظہبی سے کلکتہ پولیس کے حوالے کئے جانے کے عمل کو رکواسکے۔ اور بےچارہ ونے یہ خطیر رقم ادا کرتا رہا۔ مگر جب تک ونے کو اس سادہ لوحی کے سبب ٹھگ لئے جانے اور لوٹ لئے جانے کا احساس ہوا، اس وقت تک ونے مترا کو تقریباً چھیانوے لاکھ روپے ادا کرچکا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم مترا سے تفتیش جاری ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright