BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 14:35 - 17/07/2003
پاکستان:’نیٹ کے جیالے‘
پاکستان میں نیٹ کا عام استعمال سات برس قبل شروع ہوا
پاکستان میں نیٹ کا عام استعمال سات برس قبل شروع ہوا

تحریر: عاطف خان، کراچی

صبح کے سات بجے ہیں اور ڈاکٹر درِنجف کو ایک نئے دن کا سامنا ہے۔ ایک کامیاب گائناکالوجسٹ کا دن کیسا ہو سکتا ہے؟ لوگوں کے لئے خوش خبریاں مگر اس کے اپنے لئے مصرفیات سے بھرا ایک اور دن مگر ساری مصروفیات سے پہلے، حتٰی کے چائے کے ایک کپ سے پہلے، اس کے لئے اپنے آن لائن دوستوں کو ہیلو کہنا لازمی ہے۔

ڈاکٹر درِنجف پاکستان کے ان بیس یا پچیس لاکھ لوگوں میں سے ایک ہیں جو گزشتہ سالوں میں بےتحاشہ بڑھتے ہوئے Net craze کا شکار ہیں۔ان کے لئے مقررہ وقت پر اپنے آن لائن عزیزوں سے ملنا شاید مریضوں سےملنے سے کم نہیں ہے۔

(انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہمارے خصوصی ضمیمے کے لئے یہاں کلِک کریں۔)

پاکستان میں انٹرنیٹ کا یہ رجحان آج سے تقریباًسات سال
  محبت کی فراونی  
  گزشتہ دور میں ’کس کو پیار کروں؟‘ کی دہائی دینے والے آج ’کس کس کو پیار کروں؟‘ کی الجھنوں کا شکار نظر آتے ہیں۔  
پہلے اس تک خاص و عام کی رسائی سے شروع ہوا۔ ایک دور تھا جب Yahoo ایک مضحکہ خیزلفظ سنائی دیتا تھا مگر آج پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ جنریشن پر اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔

MP3s کی surfing سے لے کر نئے سافٹ ویئر کے Beta version کی downloading تک پاکستانی نیٹ صارفین کا شوق دیوانگی کی حد تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی قیمتوں میں کمی بھی ہے۔ مثال کے طور پر عمر جو کہ ایک کالج کے طالب علم ہیں، کہتے ہیں کہ زندگی کمپیوٹر کے بغیر بے رنگ ہے۔ وہ دن کے آٹھ گھنٹے اپنے کمپیوٹر کے سامنے گزارتے ہیں اور جب پڑھائی نہ ہو تو وقت کا کسے اندازہ رہتا ہے۔

عمر Ineshh, Kaaza اور Winamex سے گانے ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرا کمپیوٹر میرے لئے ایک بھائی کی طرح ہے۔ اگر یہ اور انٹرنیٹ میرے پاس ہوں تو دوست نہ ہونے کے باوجود مجھے کبھی اکیلے پن کا احساس تک نہیں ہوتا۔‘

وہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے شیدائیوں

کی بورڑ سے اتنا لگاؤ؟
کی بڑھتی ہوئی اس آبادی کا حصہ ہیں جس کے لئے انٹرنیٹ ذہنی اور قلبی سکون کا باعث ہے۔ اور جن کی تفریحی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی انٹرنیٹ کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال تین قسم کا ہے: تفریحی، تعلیمی اور تخلیقی و معاشی۔ MP3s ڈاؤن لوڈ کرنے سے لے کر عزیزوں سے چیٹ کرنا اور نئے دوستوں کی تلاش تک، تخلیقی و معاشی مصروفیات مثلاً نئے سافٹ ویئر کے اجراء اور newsalert اور تعلیمی سرگرمیاں مثلاً مطالعے کا مواد اور بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں کے داخلہ فارم وغیرہ کی ڈاؤن لوڈنگ پر محیط ہیں۔

ہر شعبہ کی طرح تعلیم کے شعبہ میں بھی انٹرنیٹ بے حد اہمیت کا حامل ہے مثلاً ایاز جو بی بی اے کے طالب علم ہیں، اعلٰی تعلیم کے حصول کے لئے انٹرنیٹ کی مدد سے مختلف یونیورسٹیوں کے داخلہ فارم ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور مختلف شعبوں کے سربراہان اور پروفیسروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کے بقول انٹرنیٹ ان کے لئے اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا مچھلی کے لئے پانی۔

ایاز کا کہنا کہ پڑھائی کے دوران انٹرنیٹ کتابوں سے بڑھ کر مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ دوسری طرف عمر جیسے لوگوں کے لئے انٹرنیٹ تعلیمی سرگرمیوں میں صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ رابطہ رکھنے تک محدود ہے۔

تعلیمی سرگرمیوں میں اہمیت کے باوجود پاکستان میں انٹرنیٹ کی شہرت کی وجہ چیٹ اور بالخصوص ’پیار کی تلاش‘ ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ Yahoo, Msn اور AoL سے لے کر MIRC تک ہر کوئی ’پرفیکٹ میچ‘ کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ گزشتہ دور میں ’کس کو پیار کروں؟‘ کی دہائی دینے والے آج ’کس کس کو پیار کروں؟‘ کی الجھنوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

کچھ لوگ اس ضمن میں ناامید دیکھائی دیتے ہیں مگر یاد رہے کہ پیار نہ ملنے کا مطلب ہرگز نہیں کہ cyber space میں پیار نہیں ہے۔

ڈاکٹر درِنجف آن لائن پیار کی پرزور حامی ہیں چونکہ انہوں نے نہ صرف اپنی زندگی کا پیار آن لائن پایا بلکہ ہمیشہ کے لئے اسے اپنا بھی لیا۔ اور اب وہ Internet addict ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب بیوی اور بہو بھی ہیں۔

آن لائن محبت میں ناکامی کے باوجود چیٹ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رہنے والے نئے لوگوں سے ملنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ایاز کا کہنا ہے کہ ’گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد ساری دنیا ہمارے خلاف ہو گئی ہے۔ میں دوسرے ملکوں میں رہنے والے لوگوں سے online بات کرتا ہوں اور انہیں اپنا نقطۂ نظر سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو امن کا سفیر سمجھ کر اپنے ملک (پاکستان) کی حفاظت کی کوشش کرتا ہوں۔‘

عالیہ جو ایڈورٹائزنگ کے شعبہ سے وابسطہ ہیں کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ کا استعمال بالخصوص چیٹ کرنا نوجوانوں میں اکیلے پن یا سماج سے الگ تھلگ ہونے کا باعث بن رہا ہے اور یہ ایک صحت مند رجحان قطعی نہیں ہے۔ عالیہ اور ان جیسے کئی ماننے والوں کے اعتراض کے باوجود یہ انٹرنیٹ ہی ہے جس کی بدولت آج پاکستانی اور ان کے دور دوراز مقیم عزیز ایک دوسرے سے صرف ایک کلِک کے فاصلے پر ہیں۔

پاکستانی سائبر کیفے، دفتروں اور گھروں میں کمپیوٹر کے گرد جمع ہوتا یہ ہجوم سوچنے والوں کے لئے ایک لمحۂ فکریہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ وہ عشق ہے جس کی نہ دوا ہے اور نہ ہی کوئی مرکزِ بحالی rehabilitation centre، مگر پھر کسی عاشق کو ایسی کسی دوا کی تلاش بھی تو نہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright