BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 17:55 - 10/07/2003
’میں انٹرنیٹ چور ہوں‘
انٹرنیٹ  سےسی ڈی تک براہ راست، دوکان کیوں چاہئیے
انٹرنیٹ سےسی ڈی تک براہ راست، دوکان کیوں چاہئیے

(انٹرنیٹ سے موسیقی ڈاؤن لوڈ کرنے والے ایک شخص کا جو اپنے آپ کو ’نیٹ پائریٹ‘ یا انٹریٹ چور کہتا ہے خیال ہے کہ موسیقی سے وابستہ صنعت کاروں کو ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہئیے جو انٹرنیٹ سے نغمے ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔)

’میں قریب دو برس سے ’کازا‘

جیسی آن لائن سروسز سے موسیقی ڈاؤن لوڈ کر رہا ہوں۔ میرے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو پر قریب پچاس سی ڈیز (CDs) کے برابر موسیقی ہے اور صرف پانچ ایسے سی ڈی جن پر میرے پسندیدہ نغموں کا انتخاب ہے۔

’میں کبھی کبھار ہی موسیقی چراتا ہوں۔ ہر چیز ہی ڈاؤن لوڈ کرنے والے ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جن کے خلاف موسیقی کی صنعت کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ مجھے اس بات کا خوف نہیں ہے کہ ایف بی آئی یا کوئی اور میرے دروازے پر دستک دے کر مجھے کوئی عدالتی حکم نامہ پکڑا دے۔

میں جانتا ہوں کہ جو میں کر رہا ہوں غیر قانونی ہے، لیکن میرا خیال ہے یہ عمل اتنا ہی غیر قانونی ہے جتنا کہ کوئی ٹی وی پروگرام ویڈیو پر ریکارڑ کرنا۔

’کبھی کبھار موسیقی ڈاؤن لوڈ کرنے اور بڑے پیمانے پر نغمے ڈاؤن لوڈ کرنے میں ایک واضح فرق ہے۔ ہزاروں نغموں کو ڈاؤن لوڈ کرکے انہیں CDs پر نقل کرکے دوستوں میں تقسیم کرنا، جیسا کہ چند لوگ کرتے ہیں، ایک الگ بات ہے۔

’موسیقی کی صنعت کو اپنی تجارت کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے، تاہم وہ دانستہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انٹرنیٹ سے موسیقی ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی اکثریت ایسا اس وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔

’گزشتہ دس برس سے موسیقی سے وابستہ تاجر اس امر کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں کہ موسیقی کے شائقین اور ٹیکنالوجی کتنا تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس وہ انیس سو ترانوے کے دور سے ہی باہر نہیں نکل رہے۔

’سن ترانوے میں سی ڈی موسیقی کے بازار پر چھائی ہوئی تھی۔ نو عمر لڑکے لڑکیاں کمپنیوں کے لئے سب سے بڑے صارفین تھے جبکہ انٹرنیٹ اور ایم پی تھری چند لوگوں تک ہی محدود تھے۔

’میوزک کمپنیاں اب بھی چاہتی ہیں کہ ہم

چمکدار سی ڈی دوکانوں سے خریدیں، بغیر اس بات کی پرواہ کئے کہ ہمیں سی ڈی پر ایک سے پانچ نبر تک کےگانے تو پسند ہیں لیکن چھ سے گیارہ سے بے حد نفرت۔ کمپنیاں تو یہ بھی چاہتیں ہیں کہ ہم بڑے پیسے دے کر صرف ایک گانے والی سی ڈی بھی خریدیں۔

’موسیقی کی صنعت کی دلچسپی اس میں ہے کہ مٹھی بھر ’سُپر سٹار‘ دنیا بھر کے نو عمروں پر حاوی ہو جائیں، لیکن تیس سال کی عمر سے زیادہ کے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی جائے۔

’مجھے اگر پانچ برس پرانا کوئی گانا پسند ہے تو میں اسے اپنے مقامی سٹور سے نہیں خرید سکتا (کیوں ان صاحب کے پاس ہے ہی نہیں) اور نہ ہی مجھے قانونی اجازت ہے کہ میں وہ نغمہ انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکوں۔

’انٹرنیٹ پر ایک گانا خریدنے کی ٹیکنالوجی دس برس سے

موجود ہے لیکن موسیقی کے تاجر حضرات اب بھی اس موڈ میں نہیں ہیں۔ لاکھوں پرانے نغموں پر موسیقی کے صنعت کاروں نے تالے لگا لئے ہیں، ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ انہیں شائقین کے لئے دستیاب کیا جا سکے؟

’کیونکہ تاجر کنٹرول کھونا نہیں چاہتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ صارفین کو انتخاب کا زیادہ موقع دیا جائے۔ انہیں ڈر ہے کہ وہ کہیں یہ فیصلہ کرنے کا ’حق‘ نہ کھو دیں کہ ہم کب، کیا اور کیسے موسیقی سنیں۔

’انٹرنیٹ کی آمد سے موسیقی کے شائقین کو یہ آزادی حاصل ہوئی ہے کہ وہ کس طرح کی موسیقی کب اور کیسے سنیں۔‘
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright