BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 12:54 - 18/07/2003
اصلی نمبر دو
ہال روڈ کے اصل۔نقل جلوے
ہال روڈ کے اصل۔نقل جلوے

تحریر: اشعر رحمان

زاہد بالکل مجاہد جیسا لگتا ہے۔
مجاہد بالکل زاہد جیسا لگتا ہے۔
یہ دونوں بالکل ایک جیسے لگتے ہیں۔

یہ دونوں نوجوان جڑواں بھائی ہال روڈ پر الیکڑونکس کے سامان کی دکان کرتے ہیں۔ جیسے ایک ناواقف کار کے لئے مجاہد اور زاہد میں فرق کرنا ناممکن ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ہال روڈ لاہور پر جو بھی کچھ، جس بھی نام سے بک رہا ہے۔ کیا یہ واقعی اصل ہے، یا پھر یوں کہ کیا یہ واقعی اصل نمبر دو ہے۔

(انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہمارے خصوصی ضمیمے کے لئے یہاں کلِک کریں۔)

مجھے خود تو ان بیچارے دکان داروں کی سادہ لوحی پر ترس آتا ہے، چلیے مانا کہ ٹیلی ویژن سیٹ چین سے برآمد شدہ ہے مانا کہ اس کا مقابلہ جاپان یا ملیشا کے بنے ہوئے ٹی وی سیٹ سے نہیں کیا جا سکتا۔ مگر صاحب، یہ راز سب کو بتانے کی کیا ضرورت ہے۔

اس ٹیلی ویژن سیٹ کی قیمت ہے چار ہزار پانچ سو روپے لیبل (یعنی برانڈ نیم) آپ اپنی پسند کا لگوا سکتے ہیں۔ یہ کہنا ہے ہال روڈ کے ایک ایسے دکاندار کا جو آجکل چینی ٹیلی ویژن فروخت کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔ اس کی دکان میں سلیٹی رنگ کے چینی ٹی وی سیٹ سلیقہ مندی کے مروجہ معیار کے مطابق اوپر نیچے قطار در قطار رکھے ہوئے ہیں۔

جس وقت میں دکان میں گیا اس وقت وہاں رکھے ہوئے تمام ٹی وی سیٹوں پر SONY کی مہر قبولیت ثبت تھی۔ ویسے آپ کی مرضی ہے، آپ جو لیبل پسند کریں۔ دکاندار اسی برانڈ میں چینی ٹی وی کو ٹرانسفارم کر دے گا۔

اسی لئے مجاہد کہتے ہیں کہ یہاں کسی چیز کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

یہ الفاظ مجاہد اور زاہد کی دکان کی طرح ہال روڈ پر تقریباً تمام دکانوں کی دیواروں پر جلی حروف میں لکھے نظر آتے ہیں۔ کہیں ایک دکاندار اپنے ایک ملازم کو دھمکی آمیز الفاظ میں جھڑکتا سنائی دیتا ہے، محض اس لئے کہ وہ ملازم نمبر دو فعل کا مرتکب پایا گیا تھا۔ یعنی کام اپنی دکان پر اور کمائی کسی اور دکاندار کے لئے۔

سب چلتا نہیں بلکہ چل رہا ہے۔ اور لوگ جنہیں جدید زبان میں صارف یا کنزیومر کہا جاتا ہے، خوش ہیں۔

عزیر ابھی صرف سات آٹھ سال برس کا ہے۔ مگر اس میں ایک اچھا صارف بننے کی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

جہاں میں نے کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹے

کی دوڑ دھوپ کے بعد صرف ایک سی ڈی خریدی۔ اس نے صرف چند منٹوں میں اپنی پسند کی سی ڈی کا ڈھیر لگا دیا وہ کہتا ہے کہ اب اس کی چھٹیوں کے چند روز مزے سے گزریں گے۔ مگر کیا اسے یقین ہے کہ یہ CDs اصل ہیں اور اس کے کمپیوٹر کو خراب نہیں کریں گی۔

عزیر کے کندھے اچکانے کے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ اسے اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں یا اسے یقین ہے کہ یہ CDs اصل نہیں ہے۔ یہ سب CDs کراچی میں تیار ہوئی ہیں۔

دکاندار مجھے بتاتا ہے ’جی ہاں پہلے ایک وقت

تھا کہ CDsباہر سے پاکستان آتی تھیں۔ اب CDs یہاں سے باہر لیجائی جاتی ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ اصل سامان کا کاروبار کر رہے ہیں وہ میرے خیال میں سچ نہیں کہہ رہے۔ مگر بھائی سچ بولنے کی ضرورت کیا ہے؟ اور وہ لوگ جواب ہم یہ اپنی سچائی جتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا وہ واقعی ان روایتی دکانداروں سے مختلف ہیں۔ جن کا کام جیسے تیسے اپنا مال بیچنا ہے؟‘

اگر آپ ہال روڈ کو تھوڑا اور وقت دے سکیں تو آپ کو یہ اندازہ ہو گا کہ سچ کا کوئی ایک معیار یہاں پر نہیں ہے۔ جو CDمیں نے پنتالیس روپے کی خطیر رقم میں خریدی وہی آپ کو تیس روپے میں بھی مل سکتی ہے۔ اور جو ٹی وی سیٹ پنتالیس سو روپے میں آپ کو بہت سستا لگ رہا ہے، وہ ایک اور دکان پر صرف انتالیس سو روپے میں دستیاب ہے۔

آپ چاہیں تو اس پر کئی ایک لیبل چسپاں کروالیں اور ٹی وی سیٹ بنانے والی بڑی کمپنیوں کا ایک Conglomerateگھر لے جائیں۔ جیسا میں پہلے کہہ چکا ہوں، کسی کو بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ آج بھی ہمارے درمیان ایسے سادہ لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو دکاندار کے بتائے بغیر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو ٹی وی وہ خرید رہے ہیں وہ واقعی SONY ہے یا اس کا چینی نقال۔

میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی چند سال ہال روڈ پر ایک گھر میں گزارے۔ بہن بھائیوں میں میرا نمبر دوسرا ہے۔ مگر اچھے زمانوں کا نمبر دو۔ اصلی نمبر دو میں دیکتھے ہی دیکتھے ہال روڈ پر صارفین کے ہجوم کا قبصہ ہو چکا ہے۔ اور جلدی یا بدیر سب کو اس ہجوم میں شامل ہونا ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright