BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2003, 14:48 GMT 19:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
انٹرنیٹ، پیار ویار
شادی ڈاٹ کام مقبول ترین رشتہ ویب سائٹس میں ہے
شادی ڈاٹ کام مقبول ترین رشتہ ویب سائٹس میں ہے
 

تحریر: مصدق سانول

اس کا نام لورا ہے، اس کی عمر بیالیس سال ہے، وہ گوری ہے، طلاق یافتہ ہے ( کتنی شادیوں سے یہ اس لئے نہیں بتایاگیا کہ اس نے اپنا پروفائل بنانے کےلئے جو فارم بھرا اس میں ایسا کوئی سوال پوچھا ہی نہیں گیا)، اس کی آنکھوں کا رنگ سلیٹی ہے، اس کے بال گہرے بھورے ہیں، اس کا قد پانچ فٹ چار انچ ہے اور جسم پر’ کچھ پاؤنڈ زیادہ‘ ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اوسط نظر آنے والی عورت سمجھتی ہے۔

اور بہت سے سوالوں کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ وہ ان کا جواب بعد میں دے گی۔ یعنی ویب سائٹ پر یہ معلومات فراہم کرنے کی بجائے دلچسپی رکھنے والے کو بقلم خود۔

سوال: اسے کس طرح کے مرد کی تلاش ہے؟

جواب: مخلص، حساس، محبت کرنے والا، سچا، اس کی آمدنی چوبیس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو، قد پانچ فٹ نو انچ سے لیکر آٹھ فٹ تک کچھ بھی ہوسکتا ہے، تمباکو نوشی اور شراب نوشی کبھی کبھار کرتا ہو، نسل کوئی بھی ہو سکتی ہے، گورا، لاطینی، کالا، عرب، ایشیائی حتیٰ کہ ہندی اور اردو۔ (جی ہاں لیکن کم از کم انہیں ہمارے اختلافات کا تو پتہ ہے۔)

باقی کچھ پوچھنا ہو تو آپ لورا کو ای میل کر لیجئے۔

اگر آپ بھی اپنا پروفائل اس ویب سائٹ پر دیکھنا چاہیں اور بتانا چاہیں کہ آپ کس طرح کی عورت کی تلاش میں ہیں جو ابھی تک آپ سے اس لئے رابطہ نہیں کر سکی کہ آپ کا کہیں کوئی پروفائل ہی موجود نہ تھا ، تو اب آپ ایسا کرسکتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ، یہ کام آپ مفت میں کر سکتے ہیں بلکہ اس کے بعد آپ ایک خاص تعداد سے زیادہ عورتوں کے پروفائل بھی دیکھ سکتے ہیں۔

فحاشی کی سائٹس کے بعدیہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے کامیاب کاروبار ہے۔

سماج جو بہت سے قدیم ادب اور ہماری بیشتر فلموں میں ایک دیوار کی حیثیت رکھتا تھا اب صرف ایک فرد میں بدل کر رہ گیا ہے جوکہ لورا کا سابق خاوند ہو سکتا ہے، حالیہ بوائے فرینڈ یا شوہر بھی ہو سکتا ہے جس کے بارے میں اس نے ویب سائٹ پر نہیں بتایا لیکن جس سے بےوفائی کے وہ اندر اندر خواب دیکھتی ہے یا اگر لورا کی جگہ کوئی سلمیٰ یا لبنیٰ ہو تو اس کا بھائی اور باپ بھی ہوسکتا ہے لیکن پورا معاشرہ نہیں کیونکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو چلانے والی کارپوریشن آپ کے ساتھ ہے۔

ایسی ویب سائٹس ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور بہت ساری دوسری ویب سائٹس نے بھی محبت کرنے والوں کو ملانے کا کام شروع کردیا ہے کیونکہ اپنے اصل کام سے وہ منافع کمانے میں ناکام ہیں۔

اس کی مثال شادی ڈاٹ کام ہے جو جنوبی ایشیائی اور خاص طور پر ہندوستانی محبت ڈھونڈنے والوں میں سب سے زیادہ مقبول ویب سائٹ ہے۔

برطانیہ میں اس طرح کی ایک آن لائن ڈیٹنگ کمپنی میچ ڈاٹ کام کے ممبران کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں چاہنے والے اب ایک دوسرے سے مل رہے ہیں کئی شادیوں کی خبریں چھپی ہیں جن کے پرانے ہونے کی خبر اب تک نہیں آئی۔

پھر ایسا بھی ہوا ہے کہ چھ چھ عورتیں ایک ہی آدمی کی محبت میں گرفتار ہوئیں، فرق صرف اتنا تھا کہ ان سب کو ایک دوسرے کے وجود کا علم ہی نہ تھا اور محبوب سب کو فریب دینے میں کامیاب رہا یعنی آخر میں نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔

تاہم خواہ انٹرنیٹ ہماری زندگیوں میں ہو یا نہ ہو، ہر معاشرے اور اس میں لوگوں کوملنے والی آزادی کا اس بات سے گہرا تعلق ہے کہ وہاں محبت کے کاروبار کی نوعیت کیا ہے اور ریاست اسے کس طرح کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی لڑکوں کی دنیا بھر کے دوسرے ممالک میں اس طرح کی ویب سائٹس کے ذریعے جان پہچان اور پھر عشق اور شادیوں کے قصے عام رہے ہیں۔ بھارت میں روز نئی میٹریمونیئل سائٹس کا اجرا ہوتا ہے اور جہاں اب تک کئی سائبر جوڑے شادی کے حقیقی بندھن میں بندھ چکے ہیں وہاں کئی لڑکے لڑکی بن کر لوگوں سے پیسے بھی بٹور چکے ہیں۔

گو غریب اور تیسری دنیا کے ممالک میں رہنے والوں کے لئے انٹرنیٹ ایک زیادہ خوبصورت دنیا کا دروازہ ہے جس سے گزر کر وہ ایک جہان نو میں پہنچ سکتے ہیں جہاں بہت سی آزادیوں کی پریاں بانہیں پھیلائے ان کی منتظر ہیں لیکن پریوں کی اسی جنت میں یہ دراصل ایک کاروبار ہے جس کا سب سے بڑا مقصد منافع ہے۔ دوسروں کی محبتوں سے منافع کمانا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد