BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 14:14 - 19/07/2003
ہیر رانجھا آن لائن
اب کمپیوٹر کی ونڈو سے دل کی کھڑکیاں کھلتی ہیں
اب کمپیوٹر کی ونڈو سے دل کی کھڑکیاں کھلتی ہیں

تحریر: عصمت جبین، اسلام آباد

رانجھا رانجھا آکھدی وے میں آپے رانجھا ہوئی
رانجھن میں نوں آکھو سارے ہیر نہ آ کھے کوئی

کافی عرصے دوستی، پیار، محبت،اور وعدہ وفا کرنے کے باوجود کمپیوٹر پر چیٹنگ (گفتگو) کرنے والوں کو بعض اوقات یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دراصل آن لائن رانجھا، ہیر اور ہیر رانجھا ہے۔

یہ دلچسپ صورتِِِ حال اس لیے پیدا ہو جاتی ہے کہ آج کل خط کی جگہ ای میل اور قلم کی جگہ کی بورڈ نے لے لی ہے ۔کون قلم اٹھائے کاغذ پر لکھے اور جواب کا انتظار کرے۔ اب تو کمپیوٹر کے ذریعے محبوب کے دل کی کھڑ کیاں کھولیں اور ای میل بھیج دیں۔ محبوب آپ کے قدموں میں نہ سہی آپ کے کمپیوٹر کے ان باکس میں ضرور آ جائے گا ۔

منظور حسین صا حب جو اسلام آباد میں دی انٹرنیٹ نامی کیفے کے مالک ہیں بتاتے ہیں کہ چالیس سے ساٹھ تک لڑکے لڑکیاں روزانہ یہاں آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر آن لائن چیٹنگ اور ای میل کے لیے آتے ہیں۔ اُن میں سے کچھ یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات بھی ہوتے ہیں جوکہ اپنی پڑھائی سے متعلق کام کے لۓ آتے ہیں ۔

لڑکیاں عموماٌ ایک سے دو گھنٹے گّزارتی ہیں جبکہ لڑکے تین سے چار گھنٹے تک سائبر کیفے میں ٹھہرتے ہیں۔

اسلام آباد کے ایک اور سائبر کیفے میں جانے کا اتفاق ہوا تو ایسٹ نیٹ کے مالک شریف اعوان نے بتایا کہ زیادہ تر لڑکیاں دن کے وقت آتی ہیں جبکہ لڑکے عموما شام کو ۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکیاں پیسے دینے پر کبھی جھگڑا نہیں کرتیں مگر لڑکے ایسا کرتے ہیں۔

یہاں چیٹنگ کرتے ہوئے ایک لڑکے نے جس نے اپنا نام مختار احمد بتایا تسلیم کیا کہ اکثر لڑکے اور لڑکیاں آن لائن رومانس کرتے ہیں گو کہ اس کے مطابق وہ اس وقت جا پان میں اپنے بھائی سے چیٹنگ کر رہا تھا ۔

چیٹنگ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لڑکے لڑکیاں شناخت بدل کر دوستیاں بنا تے ہیں اور خاصے رومانس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جو ہیر تھی وہ رانجھا نکلا ۔

مختار کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں آن لا ئن فی الوقتی رومانس

کیا غیر اخلاقی سائٹوں تک رسائی وقعی مشکل ہے؟
مقبول ہے۔ ان کے مطابق ایسا اس لئے ہے کہ یہ ایک دوسرے کا سامنا کئے بغیر اور اپنے با رے میں ضرورت سے زیادہ معلومات فراہم کئے بغیر حال ِدل بیان کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔نہ گھر والوں کی پرواہ نہ معاشرے کی فکر۔چاہیں تو بیک وقت ایک فرد سے رومانوی باتیں کریں یا پندرہ سے یہ آپکے شوق پر منحصر ہے۔

مگر چیٹنگ اور ای میل کے نتائج ہمیشہ وقتی رومانس نہیں ہوتے۔ کچھ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جن سے یہ محاورہ ثابت ہوتا ہے کہ رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں اور آن لائن رومانس بعض اوقات رنگ لاتا ہے۔ پچھلے دنوں اخباروں میں ایک خبر تھی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بوٹا مسیح کی ملاقات چند ماہ پہلے چیٹنگ کے ذریعے ایک امریکی خاتون سینڈرا سے ہوئی جو کہ نیو یارک میں گرافک ڈیزائنر تھی اور اس کا ایک جواں سال بیٹا بھی ہے مگر وہ طلاق یافتہ تھی۔ بوٹے سے مسلسل چیٹنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی دوستی محبت میں بدل گئی اور بالاخر وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچ گئی اور دونوں نے باقاعدہ شادی کر لی۔

پاکستان میں ایسی اور بھی مثالیں ہیں کہ چیٹنگ کرنے والوں نے اپنا جیون ساتھی خود ڈھونڈ لیا۔ مگر زندگی دکھ سکھ دونوں کا نام ہے ۔جیسا کہ ہمیں پشاور میں ہونے والے اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے ۔ ایک چالیس برس کے پاکستانی مرد کو ایک اٹھاون سالہ امریکی خاتون سے چیٹنگ کے ذریعے عشق ہو گیا۔ وہ خاتون پشاور چلی آئیں۔ جہاں دونوں نے فوری طور پر شادی کا فیصلہ کیا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔خاتون کے آنے کہ تیسرے ہی دن شادی کا سامان خرید کر واپس جاتے ہوئے ایک رکشے میں اس خاتون کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی چل بسی ۔

چونکہ پا کستان میں انٹرنیٹ استمعال کرنے والوں کی اکثریت نوجوان لڑکوں پر مشتمل ہے اسل لیئے یہ آن لائن مصروفیات کبھی کبھار بے ضرر آن لائن رومانس سے بڑھ جاتی ہیں۔

اسلام آباد کے ایک سائبر کیفے کے مالک نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ اس نے ایسی ویب سائٹوں تک رسائی بند کر دی ہے جو اخلاق سوز جنسی تصاویر سے بھر پور ہوتی ہیں۔

پھر اس نے ایسی چند ویب سائٹس کھول کر دکھائیں جو کہ سرکاری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکییشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق ان اٹھارہ ہزار ویب سائٹوں میں شامل ہیں جن تک رسائی ناممکن ہے ۔

اس انٹر نیٹ کیفے کے مالک نے تسلیم کیا زیادہ تر لڑکے ایسی ویب سائٹ دیکھنے کے لیے ہی انٹرنیٹ کیفوں کا رخ کرتے ہیں ۔اس کے مطابق ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ مکمل طور پر اخلاق سوز ویب سائٹوں تک رسائی ختم کی جا سکے جبکہ کاروباری مفاد کی بنا پر انٹرنیٹ کیفے ازخود یہ نہیں کر سکتے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright