BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 13:23 - 27/07/2003
’پرطبیعت ادھر نہیں آتی‘
دنیا سمٹ کر ہاتھ کی انگلیوں میں آ گئی ہے
دنیا سمٹ کر ہاتھ کی انگلیوں میں آ گئی ہے

تحریر: حسن ذکی کاظمی، لندن

صبح سویرے آنکھ کھلی تو فوراً ہی خیال آیا کہ آج اتوار ہے۔ پھر سوچا بھلا اتوار اتنی جلدی کیسے آسکتا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہفتے میں دو اتوار آنے لگیں۔ لیکن دل ہی دل میں حساب لگایا تو یقین کرنا پڑا کہ ہاں اتوار ہی ہے۔ یہ یقین کیا تو گھبراہٹ ہونے لگی اور میں پریشان ہوکر اٹھ کھڑا ہوا۔

دراصل کچھ دنوں سے اتوار میرے لئے پریشانی اور کوفت کی علامت بن گیا ہے۔ اگر آپ اس کی وجہ پوچھیں گے تو میں چھپاؤں گا ہرگز نہیں۔

بات یہ ہے کہ اتوار کو میری بہو مجھے کمپیوٹر سکھاتی
  وجۂ تشویش  
  جس دن مجھے اطلاع ملی کہ بہو جہیز میں کمپیوٹر لا رہی ہے میرا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا لیکن میں خاموش رہا۔  
جس دن مجھے اطلاع ملی کہ بہو جہیز میں کمپیوٹر لا رہی ہے میرا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا لیکن میں خاموش رہا۔ خاموشی کی وجہ یہ احساس تھا کہ میں اس سیلاب کو روک نہ سکوں گا۔

مختصر یہ کہ ہونے والی بات ہو کر رہی۔ کمپیوٹر آیا اور بڑے زور شور سے آیا جس نے گھر کا معمول درہم برہم کرکے رکھ دیا۔ پتہ یہ چلا کہ بہو جب تک رات کو دو چار گھنٹے کمپیوٹر سے کھیل نہ لے اسے نیند نہیں آتی۔ خیر اس بات پر اعتراض کا حق تو مجھے نہ تھا لیکن کچھ دن میں ایک نیا شگوفہ کھلا۔

اچانک بہو نے کہا ’ابا! آپ کمپیوٹر آپریٹ کرنا سیکھ لیجئے۔ بہت آسان ہے۔ میں چند دنوں میں آپ کو سکھا دوں گی۔ لکھنے پڑھنے کے کام میں آپ کو آسانی ہو جائے گی‘۔

میں نے محسوس کیا کہ میں اب براہ راست کمپیوٹر کی زد میں ہوں۔ لیکن اپنا دفاع کرنے کی بجائے میں نے بہو کے لحاظ میں حامی بھر لی اور اتوار کے اتوار کمپیوٹر کا سبق لینے لگا۔ بہو نے کہا تھا کہ وہ چند دن میں سکھا دے گی لیکن کئی اتوار گزر جانے کے بعد بھی معاملہ ’ہنوز روز اوّل‘ والا ہے۔ قصور بہو کا نہیں میرا ہے کیوں کہ کمپیوٹر سیکھتے وقت میرا دماغ کہیں اور ہوتا ہے۔

شاید آپ حیران ہوں کہ ترقی کے اس انقلابی دور میں کمپیوٹر
  رفتار زمانہ  
  اس عمر میں اس قدر تیز رفتاری سے الجھن ہونے لگتی ہے، بولاہٹ ہونے لگتی ہے اور کبھی کبھی ایک بے یقینی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ جیسے یہ سب تماشہ ہو، کوئی خواب ہو۔  
سے یہ بیزاری کیوں؟ تو لیجئے سنئے۔ جس شخص نے عمر کے بڑے حصے میں ترقی کی وہ رفتار دیکھی ہو جو کچھوے کی رفتار ہے اگر اس کے سامنے ٹیکنالوجی خرگوش کی طرح چھلانگیں لگانے لگے، بلکہ چیتے کی طرح دوڑنے لگے تو اس کا ذہن اسے کیسے خوشی سے قبول کرے گا۔ یہی حال میرا ہے۔ اس عمر میں اس قدر تیز رفتاری سے الجھن ہونے لگتی ہے، بولاہٹ ہونے لگتی ہے اور کبھی کبھی ایک بے یقینی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ جیسے یہ سب تماشہ ہو، کوئی خواب ہو۔

بیل گاڑی سے اٹھ کر ہوائی جہاز میں بیٹھ لئے۔ انگلیوں پر گننے اور دماغ میں جمع تفریق کرنے کے بجائے کیلکولیٹر استعمال کرنے لگے۔ موٹر گاڑی کی بیٹری سے چلنے والے ریڈیو کے ڈبے کی جگہ چھوٹا سا ٹرانزسٹر ریڈیو سن لیا۔ ٹیلی ویژن پر سینکڑوں ہزاروں میل دور کی تصویریں دیکھ لیں۔ اب اس سے آگے جانے کی ہمت نہیں۔

تو بات ہو رہی تھی کمپیوٹر کی۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر چند
  یہ کیا ہوا  
  جو بچے پہلے مجھے دیکھ کر ادب سے سلام کرتے اور مزاج پوچھتے تھے اب کمپیوٹر پر نظریں گاڑے بڑی بے رخی سے سلام پھینک مارتے ہیں۔  
ڈبوں، ایک سکرین اور ایک کی بورڈ میں دنیا سمٹ آئے۔ تحریر، تقریر اور تصویر کا جہان آباد ہوجائے۔ ہر پل ہر لمحے تبدیلی رونما ہو۔ ہر سال دو سال میں نئی سہولتوں کے ساتھ نئے ماڈل بازار میں آئیں تو میری بلا سے۔ میں اپنی صلاحیتوں سے ہاتھ دھو کر کمپیوٹر کا محتاج کیوں بنوں۔ مجھے صفحے کے صفحے ہاتھ سے لکھنے، بستر پر لیٹ کر کتاب پڑھنے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے اپنے دماغ سے کام لینے میں زیادہ سکون ملتا ہے۔ میں مشینوں کا سہارا کیوں لوں؟

کمپیوٹر سے بیر کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ میں اسے اپنے سے اپنی نئی نسل کی دوری کا ذمہ دار بھی سمجھتا ہوں۔ مثلاً یہ کہ میرے خاندان کے جو بچے پہلے مجھے دیکھ کر ادب سے سلام کرتے اور مزاج پوچھتے تھے اب کمپیوٹر پر نظریں گاڑے بڑی بے رخی سے سلام پھینک مارتے ہیں۔ رشتوں اور دوستیوں میں فرق آرہا ہے، بزرگوں کے ادب لحاظ میں کمی آرہی ہے، گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے سے صحت متاثر ہو رہی ہے تو پھر مجھے کیا پڑی ہے کہ میں کمپیوٹر سیکھوں اور یہ جھنجھٹ مول لوں۔ مجھے اپنے طور طریقے پیارے ہیں اور اپنی اقدار عزیز۔

کمپیوٹر کے کمالات بھی ہیں اور فوائد بھی۔ ان کا میں منکر نہیں ’پر طبیعت ادھر نہیں آتی‘۔ اور طبیعت ادھر نہ آنے کی وجہ یہی ہے کہ میں اتنی تیز رفتار ترقی کا قائل نہیں جس میں چلنے کے بجائے چھلانگیں لگانا پڑیں۔ مجھے کچھوے کی رفتار سے چلنے دیجئے۔ کمپیوٹر کے حامیوں کو خرگوش اور چیتے کی رفتار مبارک ہو۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright