BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 17:58 - 08/08/2003
چھوٹی سی دنیا
پلک جھپکتے میں آپ کا پیغام کہیں بھی پہنچ سکتا ہے
پلک جھپکتے میں آپ کا پیغام کہیں بھی پہنچ سکتا ہے

جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ای میل یا برقیاتی ڈاک کے ذریعہ ایک تجربہ کیا گیا ہے جس سے اس نظریہ کے درست ہونے کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں کہ دنیا میں تمام لوگ واسطوں کے ایک مختصر سلسلے سے باہم منسلک ہیں۔

یہ تجربہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔

اس تجربہ میں مطلوبہ افراد تک پیغام پہنچانے کے لئے ای میل استعمال کی گئی۔ تاہم یہ پیغام انہیں براہ راست نہیں بھیجا گیا بلکہ تجربہ میں شامل رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ یہ پیغام ایسے دوستوں یا عزیزوں کو ارسال کریں جو ان کے خیال میں مطلوبہ افراد (مکتوب علیہ) تک جلد رسائی میں معاون ہو سکتے ہیں۔

اکسٹھ ہزار ایک سو اڑسٹھ افراد سے کہا گیا کہ وہ ایک مخصوص پیغام تیرہ ملکوں میں بسنے والے اٹھارہ افراد تک بالواسطہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس عمل میں پیغام رسانی کے چوبیس ہزار ایک سو تریسٹھ سلسلے قائم ہوئے جس میں سے تین سو چوراسی بالآخر مکتوب علیہ پر ختم ہوئے۔

تجربہ کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک پیغام کو پانچ سے سات مرتبہ آگے (فارورڈ) بھیجنے سے پیغام مطلوبہ شخص تک پہنچ گیا۔

انسانی زنجیر کی کڑیوں کے باہم مربوط ہونے کا نظریہ ساٹھ کی دہائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت ایسا ہی ایک تجربہ امریکہ میں کیا گیا تھا جس میں ملک کے ایک حصہ سے دستی خطوط ملک کے دوسرے حصہ میں ایک شخص کے نام بدست ارسال کئے گئے تھے۔

اس تجربہ نے ثابت کیا تھا کہ کوئی انجان شخص بھی چھ حوالوں کے بعد شناسا نکل آتا ہے۔ گویا شناسائی کا ایک سلسلہ ہے جس میں تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اب کئی ایسی ویب سائٹس انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جو پرانے دوستوں کو ملانے اور نئے دوست بنانے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright