BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 15:18 - 23/08/2003
وائرس ای میل کو لگ گیا
کمپیوٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سو بگ ایف

چین وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے
وائرس کو روکنے کے لئے کافی مثبت اقدامات کیے ہیں لیکن پھر بھی وائرس کا حملہ اختتام ہفتہ تک جاری رہے گا۔

وائرس نے اتنے زیادہ ای میل پیغامات جاری کیے ہیں کہ بہت سے ای میل بکس اب بھر گئے ہیں اور وہ نئے آنے والے پیغامات کو واپس بھیج رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسئلہ اور گھمبیر ہو رہا ہے۔

سوبگ ونڈوز وائرس اب تک دریافت ہونے والے وائرسوں میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔

نیٹ کے بڑے ادارے اے او ایل نے کہا ہے کہ اس نے اب تک وائرس کی تئیس ملین کاپیاں پکڑی ہیں اور ای میل فلٹرنگ فرم میسیج لیب نے پکڑی جانے والی کاپیوں کی تعداد ساڑھے تین ملین بتائی ہے۔

انٹرنیٹ سیکورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ

وائرس ای میل بکس کو متاثر کرتا ہے
یہ وائرس سپیمرز یا بے جا اور غیر قانونی اشتہار بازوں نے پیدا کیا ہے جن کا نشانہ وہ مشینیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے بغیر کوئی نشان چھوڑے غیر مطلوب پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں۔

ابھی تک یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ وائرس کیا کرے گا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک اور وائرس کے لئے جگہ بنا سکتا ہے، حساس معلومات اکٹھی کر سکتا ہے اور فائلز کو ڈیلیٹ یا ختم کر سکتا ہے۔

دریں اثناء چین میں سوبگ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک کمپیوٹر فرم کا کہنا ہے کہ چین میں اب تک تیس فیصد کمپیوٹر وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

اس کی وجہ وائرس سے بچنے کے لئے وہاں ناکافی پروگرام ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں انٹرنیٹ کے لاکھوں صارفین سوبگ کی ایف قسم کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایک موقع ایسا بھی آیا جب میسیج لیب نے سترہ میں سے ہر ایک ای میل کو سوبگ ایف کے وائرس سے متاثر پایا۔

میسیج لیب کے ترجمان برائن زارنی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا نمبر ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

آج تک پھیلنے والا سب سے بڑا وائرس لو بگ تھا جو سن دو ہزار دو میں بھیجی جانے والی ہر اٹھائیس ای میل میں سے ایک میں آ جاتا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں تین قسم کے وائرس کمپیوٹروں پر حملہ کر چکے ہیں۔

بہت سی کمپنیوں میں سیکورٹی کا عملہ گزشتہ کئی دنوں وائرسوں کے حملے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو یکے بعد دیگرے ہو رہے ہیں۔ سوبگ سے پہلے ایم ایس بلاسٹ آیا اور اس سے پہلے ویلچی۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright