BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 23:35 - 29/08/2003
وائرس کا ملزم گرفتار

جیفری لی پارسن
امریکہ میں حکام نے ایک نوجوان پر انٹرنیٹ وائرس ’ایم ایس بلاسٹ‘ پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

امریکی ریاست مینیسوٹا کے اٹھارہ سالہ جیفری لی پارسن پر الزام ہے کہ انہوں ’ایم ایس بلاسٹ ورم‘ وائرس کی ایک قسم اپنے کمیوٹر سے جاری کی تھی۔

جیفری لی پارسن پر یہ وائرس تخلیق کرنے کی نہیں بلکہ اس کی ایک قسم پھیلانے کا الزام ہے۔

اس خطرناک وائرس سے پوری دنیا کے کمپیوٹر اور کمپوٹر سسٹم متاثر ہوئے تھے۔ انسداد کمپیوٹر وائرس کی کمپنی سیمانٹیک کے اندازے کے مطابق اس وائرس سے پچاس ہزار سے زیادہ کمپوٹر متاثر ہوئے تھے۔

ہانگ کانگ کے سرکاری دافتر، کینیڈا کی ہوائی کمپنی ’ائیر کینیڈا‘ اور امریکی ریاست میری لینڈ کی موٹر وہیکل ایڈمنسٹریشن ان بڑے اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے اس وائرس نے بہت بری طرح متاثر کیا تھا۔

اگر جیفری لی پارسن کو مجرم پایا گیا تو ان کو ڈھائی لاکھ ڈالرجرمانہ اور دس سال قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

جیفری لی پارسن کو حکام نے گھر پر نظر بند رکھا ہوا ہے لیکن ان کواسکول اور ڈاکٹر تک آنے جانی کی اجازت ہے۔ تاہم ان کے انٹرنیٹ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور حکام نے ان کے تمام کمپیوٹر ضبط کر لئے ہیں۔

 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright