BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 18:10 - 29/08/2003
ورچؤل اقوام کا اجلاس
ایلگالینڈ۔وارگالینڈ کی سائٹ کا ہوم پیج
ایلگالینڈ۔وارگالینڈ کی سائٹ کا ہوم پیج

ورچؤل اقوام یعنی کسی علاقائی یا زمینی حیثیت کے بغیر انٹرنیٹ پر قائم ’فرضی اقوام‘ کا پہلا اجلاس فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسِنکی میں ہورہا ہے۔

اس اجلاس کے منتظمین کا مقصد انٹرنیٹ پر قائم فرضی ممالک کے لئے ایک فورم کا انعقاد کرنا ہے۔ ان میں سے کئی کے اپنے آئین، پرچم اور کرنسی بھی ہے۔

اس اجتماع میں، جسے مائکرو نیشنز اور ماڈل ممالِک کا اجلاس کہا جا رہا ہے، لاڈونیا (Ladonia ) ، ٹرانس نیشنل رپبلِک اور دوہری بادشاہت والے ملک ’ایلگالینڈ۔وارگالینڈ (Elgaland-Vargalan) سے مندوبین شرکت کر رہےہیں۔

ایک ترجمان میروا پولکِینن کا کہنا ہے

’ہم شہری ہیں، رعایا نہیں‘
کہ اس اجلاس میں چھوٹی اقوام کے وجود اور ان کی اہمیت پر بحث کرنے کا موقع مل رہا ہے، حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس کا اصل مقصد انسانوں کے زندگی گزارنے کے طریقوں کی پیروڈی کرنا ہے۔

اس اجلاس کے دوران ’سرکاری سطح‘ پر نئی مملکت ’سبوتاژ ‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

اس ویب سائٹ نے جب ایلگالینڈ۔وارگالینڈ کا دورہ کیا (یعنی اس کی ویب سائٹ کا) تو پتا چلا کہ ان کا اپنا آئین ہے اور اس نے چودہ مارچ انیس سو بانوے کو دنیا کے تمام ممالک کے درمیان واقع ’نو مینز لینڈ‘ کو اپنی ملکیت قرار دیا۔ ظاہر ہے یہ باتیں اس کی ویب سائٹ پر درج ہیں اور ان کی حقیقت بھی انٹرنیٹ تک ہی محدود ہے۔

ایسی ہی ایک اور فرضی مملکت ’ٹرانس نیشنل رپبلک‘ کے ہوم پیج پر درج ہے کہ ’یہاں ہم شہری ہیں، نہ کہ رعایا۔۔۔ یہاں کے شہریوں کی پہچان خون یا پیدائش سے نہیں بلکہ سوچ کی یکسانیت سے ہوتی ہے۔۔۔‘

انٹرنیٹ پر اس طرح کی کاوشیں نئی نہیں ہیں۔ اس طرح کےگروپ یا افراد اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار یا دوسروں کے خیالات پر تنقید یا تضحیک کے لئے اکثر انٹرنیٹ کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ یہاں کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے، کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔

یہاں تک کہ فرضی ملک بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright