BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 12:51 - 06/09/2003
قبائلی علاقوں کے بھوت سکول
تحریر: سمیع اللہ داوڑ، شمالی وزیرستان

چند دن پہلے شہر

کی بھاگ دوڑ سے تنگ آکر میں سکون کی تلاش میں اپنے آبائی علاقے میران شاہ، شمالی وزیرستان کی طرف نکل پڑا۔ جونہی میں میران شاہ بازار کے قریب پہنچا تو سڑک پر ایف سی کے جوانوں کو پوزیشنیں سنبھالے پایا۔ اردگرد اور لوگ بھی جمع تھے اور افراتفری تھی۔

پوچھنے پر معلوم ہوا کہ حکومت کی طرف سے بازار میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد ہے لیکن ایک لڑکا اسلحہ لے جانے پر بضد تھا، کشمکش کے دوران ہلاک اور ایک اور زخمی ہو گیا ہے۔

میں نے سوچنا شروع کیا کہ آخر شمالی وزیرستان کی اس حسین وادی کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور قبائل ابھی تک کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ کیا ان لوگوں کو اچھا شہری بننے سے کوئی غرض نہیں؟ کیا انہیں انسانی زندگی عزیز نہیں؟ کیا یہ لوگ کلاشنکوف کلچر چھوڑنا ہی نہیں چاہتے؟

میرے خیال میں حکومت نے جو اسلحہ پر پابندی عائد کی ہے یہ انتہائی قابل تحسین فیصلہ ہے کیونکہ اسلحے نے بہت سی ماؤں سے ان کے بیٹے، بیویوں سے سہاگ اور بہنوں سے بھائی چھین لئے ہیں لیکن یہ اس مسئلے کا وقتی حل تو ہے، مستقل نہیں۔ اس کے مستقل حل کے لئے ہمیں ان اسباب پر سوچنا ہوگا جس نے قبائلیوں کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔

قبائلیوں کے ان کشیدہ حالات کی مرکزی وجہ ان کی تعلیمی اور معاشی پستی ہے۔ فاٹا میں تعلیم کی شرح چھ اعشاریہ تین فیصد ہے اور انیس سو اٹھانوے ننانوے کے مطابق اس کی اکتیس لاکھ اٹھائیس ہزار کی آبادی میں پرائمری سکولوں کی کل تعداد لڑکوں کے لئے ایک ہزار پانچ سو چار اور صرف آٹھ سو نو لڑکیوں کے لئے ہیں۔ اسی طرح مڈل سکول لڑکوں کےلئے صرف دو سو ایک اور لڑکیوں کے لئے چونسٹھ ہیں۔

بدقسمتی سے یہ سکول بھی جہاں ان کی اصل ضرورت ہے وہاں نہیں بنائے گئے۔ قبائلی علاقوں میں یہ سکول قائم کرنے کا مقصد کسی گاؤں یا علاقے کی ضرورت کو مدنظر رکھنا نہیں بلکہ قبائلی سرداروں اور ملکوں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ ان میں سے بیشتر سکول جو ’بھوت سکول‘ کے نام سے مشہور ہیں، انہیں ملک اور سردار اپنے مہمان خانوں اور حجروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور عملے کی تنخواہیں بھی انہی کی جیبوں میں جاتی ہیں۔

حال ہی میں گورنر افتخار حسین شاہ نے محکمہ تعلیم سے بھوت سکولوں اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے تاہم اگر اس رپورٹ کےلئے اعدادوشمار جمع کرنے میں اگر محکمہ تعلیم کے علاوہ مقمامی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بھی شامل کیا جائے تو تبھی اصل صورت حال سامنے آئے گی۔

صرف محکمہ تعلیم کے افسران کے ذریعے بھوت سکولوں کا اصل رخ سامنے نہیں آسکتا کیونکہ وہ خود ان میں ملوث ہیں۔

تعلیم کے بعد قبائلی معاشرے میں کلاشنکوف کلچر کی دوسری بڑی وجہ معاشی پستی ہے۔ فاٹا کا کل رقبہ ستائیس ہزار دو سو بیس مربع کلومیٹر ہے۔ اس میں سے صرف اسکا چھٹا حصہ میدانی علاقہ ہے۔ زرعی زمین بہت کم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو اکا دکا کارخانے تھے وہ یا تو بند پڑے ہیں یا سرداروں کے ہاتھوں اونے پونے داموں فروخت کئے جا چکے ہیں۔

فاٹا کے لاکھوں باشندے روزگار کے ہاتھوں مجبور ہوکر خلیج اور پاکستان بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک یہاں مقیم ہیں وہ انتہائی مخدوش حالات اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ تجارت ایک واحد ذریعہ معاش ہے لیکن وہ بھی روز بروز مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

فاٹا کی سرزمین میں بہت سی قیمتی معدنیات موجود ہیں لیکن نہ تو حکومت ان سے خود کوئی فائدہ اٹھاتی ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر اسے ایک صنعت بنانے کےلئے کوئی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

یہ وہ عوامل ہیں جو قبائلی علاقوں میں بڑھتے ہوئے جرائم اور کلاشنکوف کلچر میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے پشتو کے مشہور شاعر، ادیب اور قبائلی سردار لائق شاہ در پہ خیل سے جب پوچھا کہ ان علاقوں میں جرائم کی بنیادی وجہ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت ملک کے اور وکیل کا درجہ حاصل ہونے کے میرے پاس جتنے بھی قتل و غارت کے مقدمات آتے ہیں ان میں سے بیشتر کی وجہ غربت اور تعلیم سے محرومی ہوتی ہے۔ قبائلی نوجوانوں کو کوئی بھی انتہا پسند تنظیم ذرا سے پیسوں کے لالچ پر بھی آسانی سے خرید سکتی ہے‘۔

حکومت اگر واقعی اس سلسلے میں کچھ مخلصانہ اقدامات کرنا چاہتی ہے تو اسے ان جرائم کی وجوہات پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ایک طرف تو اسے تعلیم کی سطح بہتر بنانے، لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی لازمی تعلیم، بھوت سکولوں کا خاتمہ اور تمام سکولوں کے لئے ایک مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے جیسے اقدامات کرنا ہوں گے اور دوسری طرف معاشی حالات بہتر بنانے کےلئے کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا، قیمتی معدنیات کے ذحائر کو قابل استعمال بنانے کیلئے صنعتوں کا قیام، غلہ بانی اور جنگلات کے لئے جو ان علاقوں میں روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں، قرضہ جات کی فراہمی، چھوٹے ڈیم اور پانی کی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر جن کے ذریعے آب نوشی، آب پاشی اور ماہی گیری ممکن ہو سکے اور ضائع ہوجانے والے پانی کو محفوظ کیا جاسکے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے بغیر قبائلی علاقوں میں کسی دیرپا تبدیلی اور جرائم سے پاک معاشرے کا قیام ناممکن ہوگا۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright