BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2003, 18:44 GMT 23:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’غیرت‘ کے سات سو شکار

تحریر: ہارون رشید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’غیرت‘ کے نام پر قتل کے ان واقعات میں بھاری نقصان اکثر عورتوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ گاؤں باغ میں بھی یہی ہوا۔ حملہ آوروں نے ایک ایسے وقت مخالفین کے گھر پر دھاوا بولا جب صرف ایک ستر سالہ سربراہِ خاندان اور محض پندرہ دن کے پوتے کے علاوہ گھر پر چھ عورتیں یا بچیاں تھیں۔ ان کا قصورصرف اتنا تھا کہ وہ اس مرد کی ماں، بھابیاں اور بہنیں تھیں جس نے ایک دوسرے خاندان کی لڑکی کو دو برس قبل اغوا کیا تھا۔

قتل اور اجتماعی قتل کی ان بھیانک وارداتوں کو سندھ میں ’ کاروکاری‘ بلوچستان میں ’سیاہ کاری‘ پنجاب میں’ کالا کالی‘ اور سرحد میں ’تور تورا‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

نام علاقوں کی مناسبت سے مختلف سہی لیکن وجہ ان تمام وارداتوں کی ایک ہی ہوتی ہے یعنی عورتوں کا چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے خاندان کے مردوں کی مرضی کے خلاف کسی سے شادی کرنا یا اغوا ہوجانا۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق مطابق گزشتہ برس سات سو افراد ’غیرت کے نام‘ پر قتل ہوئے۔ کمیشن کے مطابق ان جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ کمزور قوانین اور غیر تسلی بخش عدالتی نظام کی وجہ سے ایسی وارداتوں میں ملوث افراد کا صاف بچ کر نکل جانا بتائی جاتی ہے۔

صوبۂ سرحد میں اس مسئلے کے بارے میں اعدادوشمار کی کمی ہے۔ ماہرین کے خیال میں زیادہ قدامت پسند معاشرہ ہونے کی وجہ سے بھی ایسے واقعات کی درست تعداد سامنے نہیں آپاتی۔ لیکن وقتاً فوقتاً بونیر کی طرح کا واقعہ سامنے آہی جاتا ہے اور معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔

اپریل انیس سو ننانوے میں لاہور میں پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون صائمہ سرور کا حقوق انسانی کے دفتر میں قتل بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا جس نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ شوہرکے ہاتھوں تنگ دو بچوں کی ماں کو دن دھاڑے گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے اس واقعے نے واضع کر دیا تھا کہ یہ مسئلہ معاشرے کے صرف کم تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پڑھے لکھے خاندان بھی اس میں ملوث ہوجاتے ہیں۔

صوبۂ سرحد میں ایسے کئی واقعات پر تو بےعزتی کے خوف سے پردہ ڈال دیا جاتا ہے اکثر و بیشتر تو پولیس کو ان کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تو ایسے جرائم کو پوری برادری بلکہ پورے گاؤں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ کم تعلیم یافتہ مرد اسے اپنی اور اپنے خاندان کے وقار کی بحالی کا جائز طریقہ تصور کرتے ہیں اور اس جرم کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

قبائلی اور جاگیردارانہ بنیادوں پر قائم پختون معاشرہ میں مرد کو ہی برتری حاصل ہوتی ہے۔ عورتیں کم تر اور خاندان سے منسلک چیز تصور کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال پشتو ادب ہے جو مردوں کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایسی صورت میں عورت ایک حقیر سی چیز یا بوجھ ہی سمجھی جاتی ہے جس کی کوئی وقعت نہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ قانون کو مزید سخت کیا جائے اور اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ صرف اسی صورت میں لوگوں کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا کر کے ان واقعات کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد