BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 September, 2003, 15:57 GMT 19:57 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شیرون کا دورۂ ہندوستان
 

تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

شیرون کے دورے کی مسلمانوں اور سیکولر گروہوں نے مخالفت کی ہے

ایک اندازے کے مطابق ہندوستان سے جاکر اسرائیل میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار ہے جبکہ ہندوستان میں اس وقت صرف ساڑھے چار ہزار یہودی ہیں۔ ہندوستان میں یہودی آبادی کلکتہ، دہلی اور کیرالہ کے شہر کوچی میں بسی ہوئی ہے لیکن ان میں سے بیشتر ممبئی میں آباد ہیں۔ اسی لئے وزیراعظم شیرون ممبئی بھی جائیں گے۔ ہندوستان میں یہودیوں کی تاریخ دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔

انیس سو بانوے میں کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راؤ کی حکومت نے اسرئیل سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے جسے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں ایک نئی تقویت ملی ہے۔ ہندوستان میں مسلم اور سیکولر رہنماؤں نے وزیراعظم شیرون کے دورے کی مخالفت کی ہے جبکہ وزیراعظم واجپئی کی ہندوپرست بھارتیہ جنتا پارٹی اس کی حمایت کررہی ہے۔

 

 امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان سہ طرفہ اتحاد کی ضرورت ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر برجیش مِشرا

 

مخالفین کا کہنا ہے کہ ایریئل شیرون اسرائیلی وزیردفاع کی حیثیت سے انیس سو بیاسی میں صابرہ اور شتیلا میں لگ بھگ دوہزار فلسطینیوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن ان کے دورے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتِ ہند پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے ہاتھ ملاسکتی ہے جو کارگل لڑائی کے دوران سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں، تو شیرون کا خیرمقدم کرنے میں کیا حرج ہے؟

تاہم ان کے دورے سے قبل حکومتِ ہند کی دعوت پر فلسطینی وزیر خارجہ نبیل شات نے نئی دہلی کا تین دن کا دورہ کیا ہے اور وزیراعظم شیرون کے دورے کے بعد فلسطینی وزیراعظم کو ہندوستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ جماعت اسلامی ہند سے مسنلک اسٹوڈنٹس اسلامِک موومنٹ آف انڈیا تنظیم کا کہنا ہے کہ شیرون کے دورے سے ان اخلاقی اصولوں کی نفی ہوتی ہے جن کے لئے بین الاقوامی سطح پر سفارتی حلقوں میں ہندوستان کی ساکھ بنی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم شیرون

اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، دہشت گردی مخالف منصوبے، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے لئے سمجھوتوں پر حالیہ دنوں میں دستخط کیے گئے ہیں۔ اسی سال جنوری میں اس وقت کے اسرائیلی وزیردفاع شیمون پیریز نے دہلی کے دورے پر جاپان، روس، چین اور ہندوستان کو مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد نیٹو میں شامل کرنے کی بھی بات کی تھی اور ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت بھی کی تھی۔

اور ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر برجیش مِشرا نے اسی سال نیویارک میں ایک تقریر کے دوران امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان ایک سہ طرفہ اتحاد کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ چند روز قبل ہی امریکہ اور ہندوستان کے فوجی دستوں نے لداخ میں مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں۔ اور جس تیزرفتاری سے امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے تعلقات کو فروغ دیا جارہا ہے اس سے یقینا چند سالوں کے اندر کشمیر سمیت برصغیر کے معالات کی نوعیت بالکل مختلف ہوگی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد