BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 03:05 - 11/09/2003
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بچیوں کی پیدائش پر خوشی نہیں منائی جاتی
بچیوں کی پیدائش پر خوشی نہیں منائی جاتی

بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پیدائش سے قبل جنس کا تعین کرنے کے لئے رحم مادر کا سکین کرنے والے شفاخانوں کو سزائیں دی جائیں اور ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے جو لڑکیوں کے اسقاط کو روکنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔

یہ حکم بچوں کے لئے کام کرنے والی ایک خیراتی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ میں دیا گیا ہے۔ مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ کئی والدین کو جب الٹرا ساؤنڈ کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کے یہاں بچی پیدا ہوگی تو وہ حمل ضائع کروا دیتے ہیں۔

تازہ اعداد شمار کے مطابق بھارت میں اوسطاً ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد نو سو تینتیس ہے۔

بھارت کے دہی علاقوں میں لڑکیوں پر لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ لڑکے کما کر لاتے ہیں۔

بھارتی حکومت جہیز کے رواج کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس رواج کو پہلے ہی خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔

پیدائش سے پہلے یہ جاننے کے لئے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی جوڑے الٹراساؤنڈ کرواتے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے دس سال قبل اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم تازہ جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ اس قانون پر کم ہی عمل ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے اس حکم میں وفاقی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دلائیں۔

اس سے قبل عدالت نے حکم دیا تھا کہ مختلف شفاخانوں میں استعمال ہونے والی الٹرا ساؤنڈ مشینوں کی نگرانی کی جائے اور ان مشینوں کو ضبط کر لیا جائے جن کے ذریعے پیدائش سے قبل بچے کی جنس کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم سے لگاتا ہے کہ وہ بچیوں کے اسقاط حمل کا تدارک کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ان کے خیال میں زیادہ ضروری امر اس رویہ اور سلوک میں تبدیلی لانا ہے جو لڑکیوں سےروا رکھا جاتا ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright