BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 11:11 - 11/09/2003
میں غدار نہیں: مشرف

جنرل پرویز مشرف
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے القاعدہ کے نائب رہنما ایمن الظواہری کے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے جس میں الظواہری نے جنرل مشرف کو ’غدار‘ کہا تھا۔

جنرل مشرف نے کہا کہ ایسے بیانات صرف وہ لوگ دیتے ہیں جن کو زمینی حقائق کا علم نہیں اور حقیقیت نہ جانتے ہوئے ایسی باتیں کرتے ہیں۔

جنرل مشرف نے یہ بات بی بی سی کے جمعرات گیارہ ستمبر کے خصوصی پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ پر کہی۔ اس پروگرام میں جنرل مشرف دنیا بھر سے بھیجے ہوئے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔

الظواہری نے یہ بات کل الجزیرہ ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ٹیپ میں کہی تھی۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ جنرل مشرف غدار ہیں اور پاکستانیوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ ان کا تختہ الٹ دیں۔

جنرل مشرف امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک اہم اتحادی ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام میں یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکام اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسامہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کہیں ہیں۔

جنرل مشرف نے
  اب اسلامی ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سخت گیر اور تشدد پسند راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں یا پھر ترقی پسند اور معتدل راستہ  
  جنرل مشرف  
کہا کہ عالم اسلام اور مغرب کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لئے بہت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب اسلامی ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سخت گیر اور تشدد پسند راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں یا پھر ترقی پسند اور معتدل راستہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کو ایسے تنازعات اور تصادم کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں مسلمان ممالک فریق ہوں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ سب کے لئے انصاف چاہتے ہیں۔

جنرل مشرف نے کہا کہ صلح کرانے کے علاوہ مغربی ممالک کو مسلمان ممالک میں غربت ختم کرنے اور تعلیم فراہم کرنے کے عوامل پر خاص توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہی مغرب اور اسلام کے درمیان خلیج کے بنیادی وجوہات ہیں۔

جب ان سے پاکستان میں شدت پسندی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ تمام شدت پسند تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ان کے دفاتر سر بمہر کردیے گئے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ پچھلے دو برس میں پاکستان میں کئی شدت پسند حملے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی سکیورٹی ایجنسی آبادی کو سو فیصد تحفظ نہیں فراہم کر سکتی ۔

ایک اور سوال کے جواب میں جنرل مشرف نے کہا کہ ان کی حکومت دینی مدارس پر خاص توجہ دی رہی ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں ان مدارس میں فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کا پیغام پھیلایا جاتا رہا ہے۔

بی بی سی کے ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ پر پاکستانی صدر پر اعتماد دکھائی دے رہے تھے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright