BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 06 October, 2003, 18:03 GMT 22:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تیسرا حملہ جان لیوا
 

 
مولانا اعظم طارق
عالم دین سے زیادہ ایک پرجوش کارکن

کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ ( جس نے پابندی لگنے پر اپنا نام تبدیل کرکے ملت اسلامیہ رکھ لیا) اعظم طارق پیر کے روز شام کو ایک قاتلانہ حملہ میں ہلاک ہوگئے۔ یہ گزشتہ دس سال میں ان کی زندگی پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ اس سے پہلے دونوں حملو ں میں وہ بچ گئے تھے۔

چھ سال پہلے مولانا اعظم طارق پر ایک بڑا حملہ لاہور میں سیشن جج کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بم دھماکہ کی صورت میں ہوا تھا جس میں ان کے ساتھی ضیاءالرحمان فاروقی سمیت کئی افراد ہلاک ہوگۓ تھے لیکن وہ خود شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کے جسم کا نچلا حصہ شدید متاثر ہوا تھا۔ اس حملے کا ملزم محرم علی موت کی سزا پاچکا ہے۔

اس سے پہلے جھنگ جاتے ہوئے راستے میں ان کی کار پر گھات لگا کر بیٹھے ہوۓ افراد نے ایک راکٹ داغا تھا جو شانے پر نہیں لگا اور ان کی کار بچ کر کچے راستے کی طرف مڑ گئی تھی۔ اس حملے کے ملزم اور کالعدم شیعہ شدت پسند تنظیم سپاہ محمد کے سربراہ غلام رضا نقوی کئی برس گزر جانے کے بعد ابھی تک کئی جیل میں ہیں۔

دراصل اعظم طارق پر قاتلانہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب اگست انیس سو ترانوے میں انھوں نے جھنگ میں ایک عوامی اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اپنے مخالف شیعہ مسلک کے بارھویں امام مہدی کے بارے میں سخت اور برے الفاظ استعمال کیے جس سے پورے ملک میں شیعہ فرقہ میں اشتعال پھیل گیا اور ان کی تقاریر کی فوٹو کاپیاں ملک بھر میں تقسیم کی گئیں۔

دیو بندی مسلک سے تعلق رکھنے والے مولانا اعظم طارق کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ سپاہ صحابہ تنظیم میں متحرک ہونے سے پہلے اوکاڑہ کی ایک مسجد میں خطیب تھے۔ وہ ان اولین افراد میں سے تھے جو پندرہ سال پہلے شیعہ فرقہ کے خلاف بننے والی انجمن سپاہ صحابہ میں شامل ہوئے اور کارکن کی سطح سے اس تنظیم کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔

مولانا اعظم
جیل سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے

جب انیس سو ستاسی میں حق نواز جھنگوی نے شیعہ فرقہ کے خلاف ایک شدت پسند تنظیم انجمن سپاہ صحابہ پاکستان بنائی (جس کا نام بعد میں سپاہ صحابہ پاکستان رکھ دیا گیا) تو پنجاب کے ان قصبوں میں جہاں ہندوستان سے آئے ہوۓ مہاجرین بڑی تعداد میں رہتے ہیں اس کو خاصی پذیرائی ملی۔ ان مہاجرین میں بڑی تعداد رہتک اور حصار اضلاع کے لوگوں کی تھی۔

سپاہ صحابہ کی شیعہ مخالفت کا بڑا نکتہ یہ تھا کہ شعیہ مسلک کے لوگ اہل سنت کے نزدک بعض محترم صحابہ کے بارے میں بری زبان استعمال کرتے ہیں جس کی روک تھام ہونی چاہیے۔ ایران انقلاب کے بعد پاکستان کے شیعوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری اور تنظیم ساز اور جنرل ضیاالحق کے شریعت کے نفاذ کے خلاف اہل تشیع کا کامیاب احتجاج فوجی حکومت کو بھی کھٹکنے لگا تھا جس کے باعث شیعہ فرقہ کی مخالف تنظیم کو ریاست کی حوصلہ افزائی بھی مل گئی۔

اس تنظیم کے قیام کے بعد سے فرقہ وارانہ قتلوں کا جو سلسلسہ شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے۔ اس قتل و غارت میں سپاہ صحابہ کے تمام بڑے رہنما بھی کام آئے۔ پہلے حق نواز جھنگوی کو قتل کیا گیا، پھر تنظیم کے نۓ رہنما اور رکن قومی اسمبلی ایثارالحق قاسمی قتل ہوئے۔ ا سکے بعد ضیاء الرحمان فاروقی بم دھماکے میں مارے گئے اور اب مولانا اعظم طارق۔ دوسری طرف شیعہ رہنما عارف الحسین حسینی دوسرے شیعہ علما ، ڈاکٹر، وکلا اور اعلی سرکاری افسران بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیے گۓ ہیں۔

مولانا اعظم طارق خود بھی قتل کی متعداد وارداتوں کے مقدموں میں نامزد ملزم تھے لیکن ہر بار ضمانت پر رہا ہوجاتے تھے۔ وہ پہلی بار انیس سو بانوے کے ضمنی انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوۓ تھے۔ وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک پرجوش کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔

جب حکومت نے شیعہ اور سنی شدت پسند اور فرقہ وارانہ تنظیموں پر سختی شروع کی تو سپاہ صحابہ کے ایک شدت پسند ریاض بسرا نے ایک علیحدہ تنظیم لشکر جھنگوی کے نام سے بنا لی۔ مولانا اعظم طارق نے مولانا ضیاءالقاسمی کی وفات کے بعد سپاہ صحابہ کی صدارت سنبھالی اور وہ ہمیشہ فرقہ وارانہ وارداتوں اور لشکر جھنگوی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے رہے۔

رہنماؤں کے قتل
 
اس قتل و غارت میں سپاہ صحابہ کے تمام بڑے رہنما بھی کام آئے۔ پہلے حق نواز جھنگوی کو قتل کیا گیا، پھر تنظیم کے نۓ رہنما اور رکن قومی اسمبلی ایثارالحق قاسمی قتل ہوئے۔ ا سکے بعد ضیاء الرحمان فاروقی بم دھماکے میں مارے گئے اور اب مولانا اعظم طارق۔
 

تاہم ان دونوں تنظیموں کا آپس میں گہرا تعلق رہا اور مولانا اعظم طارق کو جنرل مشرف کی حکومت نے ایک برس تک نظربند رکھا۔

سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر نے مولانا کے کاغذات تسلیم نہیں کیے اور انھیں بعد میں لاہور ہائی کورٹ سے انتخابات لڑنے کی اجازت ملی اور اس طرح وہ آزاد امیدوار کے طور پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔

جھنگ سے ایم این اے منتخب ہونے کے چند ماہ بعد ان کو عدالت نے رہا کرنے کاحکم جاری کیا۔ رہائی کے بعد انھوں نے ایک نئی جماعت ملت اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی کا ساتھ دیا۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ وہ متحدہ مجلس عمل کے توڑ کے لیے دوسری مذہبی تنظیموں سے مل کر حکومت کے حق میں کوئی اتحاد تشکیل دیں گے۔

گو کچھ عرصہ سے مولانا اعظم طارق یہی اعلان کرتے رہے کہ وہ فرقہ واریت کے مسئلہ کی مستقل بنیادوں پر روک تھام کے لیے اسمبلی میں کام کرنا چاہتے ہیں اور قانون سازی کروانا چاہتے ہیں لیکن ان کی بات پر کم ہی لوگوں کو اعتماد تھا۔ حالیہ دنوں میں پنجاب کے سی آئی ڈی محکمہ سے منسوب ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئیں جن میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں حالیہ اضافے کی ذمہ داری مولانا اعظم طارق پر ڈالی گئی تھی۔

حال میں کوئٹہ اور پھر کراچی میں شیعہ مسلک کے افراد کے متعدد افراد کے قتل کے بعد شیعہ فرقہ کے ردعمل کا اندیشہ سبھی کو تھا۔ مولانا اعظم طارق کے قتل کو عام آدمی اس پس منظر میں دیکھے گا۔ تاہم حکومت ہر فرقہ وارانہ قتل کے بعد ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کی طرف اشارہ کرتی آئی ہے جو اس کےخیال میں پاکستان کو فرقہ واریت کے ذریعے غیرمستحکم کرنا چاہتی ہے۔ اب بھی شاید ایسا ہی کوئی بیان جاری ہوجائے۔

مولانا اعظم طارق کا نام پاکستان میں فرقہ واریت کی علامت تھا۔ ان کی ہلاکت سے ردعمل میں شیعہ فرقہ کے افراد کی ہلاکتوں کا ایک نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ ان کی موت بھی اتنی ہنگامہ پرور ہوسکتی ہے جتنی ان کی زندگی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد