BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2003, 01:31 GMT 05:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مولانا اعظم طارق: حیات و سیاست
 

 
مولانا اعظم طارق

چھ اکتوبر کو اسلام آباد کے قریب نامعلوم حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے کالعدم سنی تنظیم سپاہ صحابہ کے قائد مولانا اعظم طارق کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ساہیوال سے تھا۔

وہ اٹھائیس مارچ سن انیس سو اکسٹھ کو تحصیل چیچہ وطنی میں واقع گاؤں ایک سو گیارہ/ سات آر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک راجپوت منج خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی مذہبی تعلیم ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واقع دارالعلوم ربانیہ سے حاصل کی۔ تحصیل علم کے لئے وہ مدرسہ تجوید القرآن چیچہ وطنی اور جامعہ عربیہ نعمانیہ چنیوٹ سے بھی مسلک رہے۔

انہوں نے سن انیس سو چوراسی میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث کا کورس مکمل کیا۔ انہوں نے وفاق المدارس سے عربی اور اسلامیات کے مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہوئی تھیں۔

تعلیمی سلسلے کی تکمیل کے بعد وہ جامعہ محمودیہ کراچی میں صدر مدرس اور ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جامعہ صدیق اکبر نارتھ کراچی کے خطیب بھی تھے۔

جھنگ میں سپاہ صحابہ (اس وقت انجمن سپاہ صحابہ) کے قیام کو ابھی سات ماہ ہی کا عرصہ گزرا تھا وہ اس میں شامل ہو گئے اور کراچی میں اس کی تشکیل شروع کر دی۔

وہ پہلے کراچی سنٹرل اور بعد میں کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ سن انیس سو نواسی میں جماعت کے بانی اور قائد مولانا حق نواز جھنگوی نے انہیں صوبہ سندھ کا سیکریٹری جنرل نامزد کر دیا۔

مولانا حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کے بعد وہ پہلے سپاہ صحابہ کے ڈپٹی سیکریٹری بنے۔ جنوری سن انیس سو اکیانوے میں وہ جماعت کے نائب سرپرست اعلیٰ بنے۔

اس مرحلے پر انہوں نے کراچی سے سکونت ترک کر دی اور جھنگ میں قیام پذیر ہوگئے۔ یہاں انہیں مسجد حق نواز جھنگوی کا خطیب مقرر کیا گیا۔

ملکی سیاست میں ان کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب انہوں نے سپاہ صحابہ کے پلیٹ فارم سے جھنگ شہر کی قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی۔ مولانا ایثار القاسمی کے قتل کی وجہ سے ہونے والے ضمنی انتخابات میں انہوں نے سپاہ صحابہ کے روایتی حریف شیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ یوسف کو شکست دی تھی۔

جنوری سن انیس سو چھیانوے میں لاہور کے سیشن کورٹ میں ہونے والے بم دھماکہ میں سپاہ صحابہ کے قائد مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی کی ہلاکت کے بعد وہ کالعدم تنظیم کے سرپرست اعلیٰ بن گئے۔

انہیں گوجرانولہ کے ایس ایس پی اشرف مارتھ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور انہوں نے کافی عرصہ جیل میں گزارا۔

سن انیس سو ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی سیٹ تو نواب امان اللہ سیال کے ہاتھوں ہار گئے تھے لیکن وہ صوبائی اسمبلی کی نشست صرف چند ووٹوں کی اکثریت سے جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پر ان کا مقابلہ ڈاکٹر ابوالحسن انصاری سے تھا۔

گزشتہ انتخابات کے موقع پر بھی وہ میانوالی جیل میں بند تھے لیکن اس کے باوجود وہ جھنگ شہر پر مشتمل سپاہ صحابہ کی قومی اسمبلی کی روایتی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔

مولانا اعظم طارق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے کارکنوں کے درمیان جتنے زیادہ مقبول تھے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے اتنے ہی مخالف تھے۔

مخالف فرقے کے لوگوں میں ان کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا بنیادی وجہ سن انیس سو ترانوے میں جھنگ کے ایک عوامی اجتماع ان کی وہ تقریر تھی جس میں انہوں نے شیعہ مسلک کے بارہویں امام مہدی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔

ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے اور ان حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد نے ان کی مخاصمت کی یہی وجہ بیان کی۔

ان پر پہلا حملہ ضلع سرگودھا کی تحصیل شاہ پور میں اس وقت ہوا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد جارہے تھے۔ اس حملے میں ان پر راکٹ تک فائر کئے گئے لیکن وہ بال بال بچ گئے۔

سترہ جنوری سن انیس سو چھیاسی میں لاہور کے سیشن کورٹ پر ہونے والے حملے کا بھی اصل نشانہ مولانا اعظم طارق ہی تھے اور اس حملے کے مرکزی ملزم محرم علی نے گرفتاری کے بعد اخبار نویسوں کے سامنے مولانا اعظم طارق سے دشمنی کی یہی وجہ بیان کی۔

اس حملے میں سپاہ صحابہ کے قائد مولانا ضیا الرحمٰن فاروقی، دو درجن سے زائد پولیس ملازمین، ایک پریس فوٹوگرافر ہلاک ہوئے جبکہ خود مولانا اعظم طارق زخمی ہوگئے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد