کراچی میں خواتین کا بڑا جلسہ

الطاف حسین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم نے منتخب ایوانوں میں خواتین کے حقوق کے لیے جس انداز میں آواز اٹھائی ہے کسی اور جماعت نے جرات نہیں کی: الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کو معاشی، سیاسی اور سماجی برابری کا رتبہ دیا جائے۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بااختیار خواتین، خوشحال پاکستان کے عنوان سے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آبادی کا باون فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کم سے کم پچاس فیصد تو حصہ دیجیے۔

کراچی میں پچھلے دو ماہ سے جاری سیاسی سرگرمیوں کے بعد ایم کیو ایم کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا۔ اس سے پہلے اس ہی مقام پر عمران خان، جنرل پرویز مشرف، مولانا فضل الرحمان اور دفاع پاکستان کونسل کے جلسے منعقد ہوچکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور دفاع پاکستان کے جلسوں میں کسی ایک عورت نے بھی شرکت نہیں کی تھی۔

الطاف حسین نے ان جلسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جلسوں میں اتنے مردوں نے شرکت نہیں کی ہوگی، جتنا ایم کیو ایم کے جلسے میں خواتین نے شرکت کی ہے۔ ’ سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنے کے کے لیے ایم کیو ایم کی خواتین ہی کافی ہیں۔‘

جلسے میں کراچی سمیت دیگر شہروں سے بھی خواتین شریک ہوئیں، جن میں اقلیتی خواتین بھی شامل تھیں۔ جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے چوڑیوں اور مہندی کے اسٹال بھی لگائے گئے تھے ، بعض خواتین نے متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے کے دوپٹے اور چوڑیاں بھی پہن رکھی تھیں۔

الطاف حسین نے انیس سو بانوے میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے وقت تنظیمی خواتین کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ اسلام آباد میں جو خواتین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہیں وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو اپنے گھر والوں سے ملاقات اور بازیاب کرایا جائے۔

جلسے کے باعث ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ قائدین عام ٹریفک کے لیے بند رہی، جلسہ گاہ کے اطراف میں پولیس اور رینجرز کی ایک بھاری نفری تعینات تھی، دو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بھی جلسے کی نگرانی کی گئی۔

الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا اور خواتین کو یاد دہانی کرائی کہ ایم کیو ایم نے منتخب ایوانوں میں خواتین کے حقوق کے لیے جس انداز میں آواز اٹھائی ہے کسی اور جماعت نے جرات نہیں کی۔ ’خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں اس کے ساتھ ان پر عملدرآمد بھی ہو، کارو کاری اور ونی جیسے مظالم میں ملوث ملزمان کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔‘

الطاف حسین نے واضح کیا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم پٹھانوں کی دشمن ہے اور کبھی کہا جاتا کہ سندھیوں کے خلاف ہے مگر ایم کیوایم کسی کی خلاف نہیں صرف ظالموں کے خلاف ہے۔

امریکی کانگریس میں بلوچستان کے بارے میں قرار داد کے حوالے سے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ارباب اختیار کی مسلسل غلط پالیسیوں اور بلوچ عوام کی آواز کو طاقت سے دبانے کی روش نے بلوچستان کو اس حد مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ علیحدگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

’ بلوچستان کے لوگوں کا اعتماد پاکستان سے اٹھ چکا ہے، دل پر پتھر رکھ ان کے جائز حقوق انہیں دینے ہوں گے اور جرئت مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔‘

اس سے پہلے ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی جدوجہد کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن ہی نہیں تھا۔ان کے مطابق پاکستان کے ایسے کئی علاقے ہیں جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے، ایم کیو ایم پورے ملک میں تحریک چلائے گی کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔