اقتدار پر قبضہ یا ملک کا دفاع؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کو فوجی سربراہ بھی نواز شریف ہی نے بنایا تھا

15 سال پہلے یعنی 12 اکتوبر سنہ 1999 کو پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا ہی دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک منتخب وزیر اعظم نے فوج کے نئے سربراہ کو تعینات کردیا۔ اپنی مرضی سے۔

ظاہر ہے کہ اس کو پھر اسے ’انتہائی غلط کام‘ کا انجام بھگتنا پڑا۔ اسے جیل بھیج دیا گیا اور پھر فوجی حکومت کے ساتھ ایک ’ڈیل‘ کے تحت سعودی عرب اور لندن میں سات سال تک جلا وطنی گزارنی پڑی۔

اتنے سال پہلے کا یہ ڈرامائی باب پاکستان کی تاریخ میں خاصا اہم ہے۔ اکثر لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ فوجی اگر سیاست کے معاملات میں مداخلت کریں تو وہ ہیرو اور مجاہد ہوتے ہیں لیکن سیاسی قیادت اگر فوج کے معاملات میں فیصلے کرے تو وہ ’غدار اور ہائی جیکر‘ ہوتے ہیں۔

12 اکتوبر 1999 کو ہوا کیا تھا؟ مختصراً معاملہ یہ تھا کہ کئی مہینوں سے وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی تھی، جس کی وجہ وزیر اعظم کے ساتھی کارگل آپریشن بیان کرتے ہیں۔

کئی مہینوں سے حکومت کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ’آج حکومت ختم ہو جائے گی، کل برطرف کر دی جائے گی‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس ماحول میں ایک روز پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن پر پانچ بجے کے انگریزی کے نیوز بلیٹن میں یہ خبر چلی کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیا الدین بٹ کو فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج نے چند ہی گھنٹوں میں اسلام آباد کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا

یہ سنسنی خیز خبر سامنے آنے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی فوج نے پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور اس خبر کو رکوا دیا۔

پھر سپاہیوں نے وزیر اعظم ہاؤس جا کر وزیر اعظم، ان کے ساتھیوں اور ان کے نامزد کردہ آرمی چیف کو حراست میں لے لیا۔

اتنے میں آرمی چیف جنرل مشرف کو زمین پر لانے کا آپریشن بھی جاری تھا، کیونکہ فوج کے سربراہ سری لنکا کے دورے سے واپس جس جہاز پر سوار تھے اس کو کراچی کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

جنرل مشرف کے بقول جہاز کے کپتان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے باہر کسی جگہ پر لینڈنگ کریں اور بقول ان کے انڈیا میں اترنا ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا (’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘)۔

لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کو نواب شاہ ایئرپورٹ کی طرف موڑنے کے احکامات دیے گئے تھے جہاں اس وقت کے آئی جی سندھ (رانا مقبول) کو صورتِ حال کو سنبھالنا تھا۔ بہرحال فوج نے ایئرپورٹ کا کنٹرول لے لیا اور ایمرجنسی کے حالات میں پی کے 805 کی لینڈنگ یقینی بنا دی۔

سویلین وزیر اعظم کی شطرنج کی چال نا کام رہی۔

بعد میں آرمی چیف نے پاکستان ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج مجبور تھی۔ اس کو یہ کارروائی ملک کو بچانے کے لیے کرنی پڑی تاکہ حالات مزید نہ بگڑ سکیں۔ فوج کی شطرنج کی تیاری کامیاب رہی۔ چیک میٹ۔

لیکن اتنی پرانی کہانی دہرانے سے اب حاصل کیا؟

محض یہ کہ اس ایک واقعے پر لوگوں کی آرا سے پاکستان میں نظریاتی تقسیم بھی سامنے آتی ہے اور کئی ایک کی معصومیت بھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان ٹیلی ویژن کے گیٹ کو پھلانگ کر فوجی اندر داخل ہوئے

اس واقعے کو دیکھنے کے کئی طریقے ہیں:

1۔ وزیر اعظم نے فوج کو خراب کرنے کی کوشش کی، فوج پاکستان کا واحد اچھا اور مستحکم ادارہ ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کے اختیار میں نہیں تھا۔

2- یہ فیصلہ وزیر اعظم کے اختیار میں تھا۔ آئینی طور پر فوج ان کے ماتحت ہوتی ہے۔ آرمی چیف ان کا احکامات نہیں مان رہے تھے۔

3- جنرل مشرف کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا ۔ وہ نوکری نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ محض ایک شخص کی نوکری کا جھگڑا تھا۔

4- وزیر اعظم اپنے آپ کو امیر المومنین اور زیادہ سے زیادہ با اثر بنانے کی کوشش میں تھے۔ وہ صرف کشمیری ذات کے لوگوں پر اعتبار کرتے تھے ، اس لیے وہ جنرل ضیاالدین بٹ کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔

5- وزیر اعظم نے جنرل مشرف کی جان کو خطرے میں ڈالا، وہ ان کو مروانا چاہتے تھے، احکامات کے ذریعے انھوں نے جنرل مشرف کے طیارے کو ہائی جیک کیا تھا۔

وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ۔

آپ جس طریقے سے بھی اس واقعے کو سمجھنا چاہیں، ایک بات تو حقیقت ہے کہ جنرل مشرف نے وزیر اعظم کو برطرف کر کے ایک بار پھر وہ ہی کہا جو ایسے مواقع پر فوجی ہمیشہ کہتے ہیں ۔ کہ فوج نے ’ملک کو بچا لیا ہے۔‘

اس سے مفہوم یہ ہے کہ فوج نے ملک کو ’سیاست دانوں کی تباہ کاریوں‘ سے بچا لیا ہے۔

لیکن شاید یہ صورتحال کو سمجھنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔

غالباً فوج نے ہی پاکستان کو بچا کر رکھا ہوا ہے۔ اور اسی لیے وہ سیاسی قیادت کے بارے میں فیصلے کر سکتی ہے اور اپنے با اعمتاد سیاسیی فریقوں کے ذریعے حکومتوں کو مفلوج کر سکتی ہے۔

کیونکہ ملک کو بچانا ہی سب سے اہم ترجیح ہے۔