’پاکستان میں گولی یا بم کسی کو بھی لگے مرتی ماں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پشاور کے آرمی پبلک سکول کے گیٹ پر ایک سوگوار ماں

’ کیا تم جانتے ہو کہ بیٹا کیسے جوان ہوتا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر یہ جملہ سکواش بال کی طرح کئی اکاؤنٹس سے ٹکرا کر بار بار سامنے آتا رہا۔

مجھے انیس سو نوے کی دہائی کا ایک نوحہ بھی یاد آگیا ’میں دیکھوں کس طرح سے کرتے نہیں ہو ماتم ، کڑیل جوان کا لاشہ ہو سامنے تمہارے۔‘

ان کی تو ابھی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ ایسی عمر تھی کہ جس میں شوہر بیوی کو چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیرا بیٹا جوان ہوگیا ہے اب لڑکی تلاش کر اور بچہ لڑکیوں کی طرح شرما کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے، سبز سوئٹروں اور سفید شرٹس پہنے ہوئے نویں اور دسویں جماعت کے طالب علموں کی عمریں بھی اتنی ہی تھیں۔

بیٹھک میں بیٹھے ہوئے والد تو زمانے کے سامنے خود کو مضبوط دکھانے اور آخر مرد ہے کی کہاوت کو پانی دیتے ہوئے آنکھوں کو خشک کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن مائیں کیا کریں، جن کے ہاتھوں سے یہ بچے نکلتے اور ان ہی ہاتھوں میں واپس آتے تھے۔

ان ماؤں میں سے کسی کو یہ دکھ ہے کہ اس روز امتحان کی وجہ سے ان کا بچہ جلدی میں کچھ کھائے بنا چلا گیا تھا، کس کو یہ صدمہ ہے کہ امتحانوں کے دنوں میں بھی کمپیوٹر پر زیادہ دیر تک بیٹھنے کی وجہ سے وہ بیٹے سے خفا ہوگئی تھیں۔ ان میں سے ہی کوئی بغیر سوئیٹر پہنے سکول چلا گیا تھا اور ماں کو یہ ہی فکر تھی کہ کہیں اسے ٹھنڈ نہ لگ جائے۔

گزشتہ امتحانات میں کچھ نمبر کم آنے کی وجہ سے کئی نے ماں سے وعدہ کیا تھا کہ اس بار وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوگا، ماں نے والد سے چھپ کر کمیٹی بھی ڈال رکھی تھی تاکہ میٹرک کے نتیجے پر اس کو موٹر بائیک یا لیپ ٹاپ کا تحفہ دے گی۔

لیکن وہ سفید چادر اوڑھ کر بے فکر ہوکر سوگئے اور پیچھے ماؤں کو فکرمند چھوڑ گئے، جن کی اب یہ ہی خواہش ہے کہ یہ سب کچھ ایک بھیانک خواب ہو اور وہ کل صبح جب اٹھیں تو کانوں پر وہ ہی آواز آئے امی آج پھر دیر کردی جلدی کریں سکول پہنچنا ہے۔

کراچی کے بازاروں سے گزرتے ان دنوں بچوں کے کھلونوں کی دکانوں اور ریڑھیوں پر بھی شام تک رش دیکھا ہے، جیسے ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پوری کرنا چاہتا ہوں کہیں ایسا نہ ہوں کہ بعد میں زندگی یہ موقع فراہم نہ کرے۔

رپورٹنگ کے دس سالوں میں ہر صوبے اور علاقے میں ماؤں کو گھٹتے، بلکتے اور آہیں بھرتے دیکھا ہے۔ موسم چاہے کوئی بھی آنکھوں کی رم جھم جاری ہی رہتی ہے۔ پشاور کے واقعے سے قبل تھر میں ماؤں کی بے بسی دیکھی جہاں نومولود بچے ماؤں سے کبھی نو ماہ تو کبھی دو سال کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور سبب بنتی ہے غذائی قلت، انتظامی غفلت۔

پچھلے ہی دنوں سندھ میں 6 نوجوان قوم پرست کارکنوں کی میتوں پر ماؤں کا ماتم ان ہی آنکھوں نے دیکھا، یہ لاپتہ کارکن بھی گھروں سے واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے لیکن بعد میں خون میں لت پت لاشیں ویرانوں سے ملیں اور موت کی وجہ بنی آزادی کی سوچ و خیال۔

جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد بنوں میں آئی ڈی پیز کے پاس گئے تو وہاں بھی ماؤں کی دردناک کہانیاں سینہ با سینہ چل رہی تھیں کہ کیسے ایک ہی چیک پوسٹ سے گذرنے کے لیے دوران انتظار کئی معصوم بچے فوت ہوگئے اور مائیں بچے اس پوسٹ پر لے جاکر احتجاج کرتی رہیں۔

ان ماؤں اور بچوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ لیکن اس درد کہانی کی وجہ بنی آپریشن ضرب عضب۔

بلوچستان کی دھرتی تو ویسے بھی اداس، غمگین اور لاچار ماؤں کی وادی ہے۔ اگر زیر زمین معدنیات ہے تو زمین پر غموں کا خزانہ ہے۔

کتنے لاپتہ اور ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں یہ تو یاد نہیں لیکن چہروں کے تاثرات تو ویسے ہی تھے جو آج کل پشاور میں نظر آتے ہیں۔ یہ مائیں بلوچ ہوں یا ہزارہ نقوش تبدیل ہیں مگر دکھ تو سب کا سانجھا ہے۔ ان ماؤں کی گود اجڑنے کی وجہ حق ملکیت کا دعویٰ اور مخصوص شناخت بنی تھی۔

بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں اس کی صحت کی حفاظت کے لیے کچھ ٹیکے ماں کے حصے میں آتے ہیں تو کچھ بچوں کی جسموں میں اتار دیے جاتے ہیں، لیکن وہ ٹیکے کہاں سے آئیں جو ان بیمار ذہنوں کو لگائے جائیں جو ان ماؤں کے جگر کے ٹکڑوں کے سینے میں لوہا اتار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں