واجپائی کو’بھارت رتن‘ کس بنیاد پر ملا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو ملک کے اعلی ترین اعزاز ’بھارت رتن‘ دینے کا اعلان کیا ہے

کوئی ایسا انعام یا اعزاز جو نیلسن منڈیلا اور سچن تندولکر دونوں کو دیا جائے، یا جواہر لال نہرو اور گلزاری لال نندا کو بھی اسی سے سرفراز کیا جائے تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔

’بھارت رتن‘ ہندوستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے لیکن اسے پانے والے بیشتر افراد، ( 45 میں سے 25 ) سیاست دان ہیں۔

اسے سیاست میں لائف ٹائم اچيومنٹ انعام کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اگر اس اعزاز سے سرفراز افراد کی فہرست پر نظر ڈالیں تو یہ اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے۔

ہمارے یہاں جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں وہ عام طور پر اپنی ہی عزت افزائی کرتے ہیں اور اس معاملے میں ’بھارت رتن‘ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے ایسی کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی کہ انھیں بھارت رتن سے نوازا جاتا لیکن انھیں ملا، شاید خاندانی طور پر، کیونکہ ان کی ماں اندرا گاندھی کو بھی یہ دیا گیا تھا۔ اکثر بھارتی مہاتما گاندھی کو امن کا نوبیل انعام نہ دینے کی شکایت کرتے رہتے ہیں لیکن وہ اس بارے میں کم ہی سوچتے ہیں کہ آخر انھیں بھارت رتن کیوں نہیں دیا جاتا۔یہ سوچ بھی اس بات کی عکاس ہے کہ یہ انعام کس طرح کی شخصیات کو دیا جاتا رہا ہے۔

اٹل بہاری واجپائی، جنھیں اب اس انعام سے نوازا گیا ہے، بذات خود اس طرح کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے نہیں لیتے اور انھوں نے بھارت کا تیسرا بڑا سویلین اعزاز ’پدم بھوشن‘ ڈاکٹر چترنجن رناؤت کو دے دیا تھا جنھوں نے ان کے گھٹنوں کا علاج کیا تھا۔

میں تو کہوں گا کہ بطور ایک قوم ہم ان اعزازات کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں۔ یہی احساسات مسلح افواج کے لیے بھی ہیں۔1999 میں فوج نے 19 برس کے یوگیندر یادو نامی ایک فوجی کو ان کی موت کے بعد اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ’پرم ویر چکر‘ سے نوازا۔ اس کے بعد پتہ یہ چلا کہ حوالدار یادو کی تو موت ہی نہیں ہوئی تھی اور ان کا ہسپتال میں گولیوں کے زخموں کا علاج چل رہا تھا جس کے لیے انھیں وہ اعزاز عطا کیا گيا تھا۔

واجپائی ایک اچھے انسان ہیں جنھوں نے اکثر اچھا کیا، اور ایک ایسی پارٹی میں وہ سب سے پسندیدہ شخصیت تھے جس میں بیشتر افراد ناپسند کیے جاتے تھے۔ خاص طور پر مجھے انہیں اس اعزاز کے دیے جانے پر کوئی مسئلہ نہیں، جیسے کہ میں نے کہا کہ جس طرح کے سیاست دانوں کو یہ اعزاز ان سے پہلے سے دیا جاتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واجپائی 2002 کے یک طرفہ گجرات فسادات سے کافی پریشان تھے لیکن یہ قطعی سچ بات نہیں ہے

لیکن ایک ایسے وقت جب ان کی سیاسی زندگی کا جشن منایا جا رہا ہو میں بعض ان مختلف پہلوؤں کی طرف نظر ڈالنا چاہتا ہوں جنھیں شاید نظر انداز کر دیا گیا ہو۔

اب سے ایک عشرے قبل تک واجپائی کی کوئی بھی سوانح حیات ( اگرچہ بھارتی سوانح حیات لکھنے میں بہت اچھے نہیں ہیں) ایک بہت ہی تلخ حقیقت سے شروع ہوتي ہے۔ واجپائی اور ان کے ساتھی لال کرشن اڈوانی نے ایک ایسے مسئلے کا انتخاب کیا کہ جس سے ان کی جماعت کو مقبولیت تو ملی لیکن اس کی قیمت تین ہزار بھارتی شہریوں کی جان دے کر چکانی پڑی۔

یہ خیال کہ واجپائی اڈوانی کے برے سپاہی کے لیے اچھے ‎سپاہی تھے ( فاختہ اور باز) پوری طرح سے غلط ہے، یہ اس بات سے بھی اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ طاقت کی دہلیز پر اڈوانی کو ہی اپنے قدم پیچھے کرنے پڑے تھے۔

واجپائی ہی بابری مسجد تحریک کے اہم کھلاڑی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ واجپائی 2002 کے یک طرفہ گجرات فسادات سے کافی پریشان تھے لیکن یہ قطعی سچ بات نہیں ہے۔

گجرات فسادات سے متعلق کتاب ’دی فکشن آف فیکٹ فائنڈنگ: مودی اینڈ گجرات‘ میں منوج متّل نے مودی کا دفاع کرنے والے واجپائی کو اس طرح کوٹ کیا ہے۔

’جہاں کہیں بھی مسلمان رہتے ہیں، وہ دوسروں کے ساتھ مل کر رہنا پسند نہیں کرتے ہیں، وہ دوسروں کے ساتھ گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتے اور اپنے نظریات کو پر امن طور پر پھیلانے کے بجائے وہ اپنے عقیدے کی تشہیر کے لیے دہشت گردی اور دھمکی کا سہارا لیتے ہیں۔ دنیا اس خطرے سے الرٹ ہو چکی ہے۔۔۔۔ گجرات میں کیا ہوا؟ اگر سابرمتی ایکسپریس کے معصوم مسافروں کو زندہ جلانے کی سازش نہ کی گئی ہوتی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے اس المیے کو ٹالا جا سکتا تھا۔ لوگ زندہ جلا دیے گئے تھے۔ آخر وہ مجرم تھے کون؟‘

تشدد سے متعلق ان کے خیالات، چاہے ان کے بیان سے کوئی متفق ہو یا نا ہو، بہت واضح ہیں۔

دوسری چیز یہ کہ حالیہ عشروں میں منفی بیرونی سرمایہ کاری کا برس 1999-1998 ( مطلب جب فنڈز نے بھارت کو خیرباد کہہ دیا)۔ یہ پوکھرن میں واجپائی کے ایٹمی دھماکے کے سبب ہوا تھا جس نے بھارت کی ترقی کو تباہ کر دیا، بے روزگاری اور غربت میں شدید اضافہ ہوا اور حکمت عملی کے اعتبار سے قطعی سود مند ثابت نہیں ہوا۔( آخر 1997کے مقابلے میں آج بھارت کتنا محفوظ ہے؟)

واجپائی کو تو نقصان کے متعلق پتہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ غیر یقینی صورت حال، تشدد اور ترقی سے متعلق ڈیٹا کو چيلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی بڑي سیاسی جماعتیں شرارت پر اترتی ہیں تو بھارتی سیاحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ کئی بار تو ترقی کی رفتار منفی ہوجاتی ہے۔

سنہ 1984، 1990، 1993، 1998اور 2000 میں شرح ترقی منفی رہی۔ یہ بالترتیب وہی سال ہیں جب سکھ مخالف دہلی کے فسادات ہوئے، بابری مسجد کے خلاف تحریک چلی، پھر اس کے بعد فسادات ہوئے، پوکھرن میں جوہرت تجربات اور اس کے بعد گجرات فسادات ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اٹل بہاری واجپائی کا آخری پہلو جس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے وہ ان کی شاعری ہے

اٹل بہاری واجپائی کا آخری پہلو جس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے وہ ان کی شاعری ہے۔ اس کی بعض مثالیں یہاں پیش کی جاتی ہیں۔

پرتھوی پر منوشیہ ہی ایسا پرانی ہے جو بھیڑ میں اکیلا اور، اور اکیلے میں بھڑ سے گھرا انوبھو کرتا ہے۔

مطلب: روئے زمین پر باحیات میں سے انسان ہی ایسا ہے جو بھیڑ میں تنہا محسوس کرتا ہے اور تنہائی میں بھیڑ سے گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔

کیا کھویا، کیا پایا جگ میں، ملتے اور بچھڑتے مگ میں، مجھے کسی سے نہیں شکایت، یدیپی چلا گیا پگ پگ میں، اک درشٹی بیتی پر ڈالیں، یادوں کی پوٹلی ٹٹولیں۔

اگر آپ اسے اٹل بہاری واجپائی کے جوشیلے انداز میں کہیں تو ممکن ہے کہ تھوڑا بہتر محسوس ہو، لیکن مجھے اس پر شک ہے۔ کچھ برس پہلے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کی شاعری سے متعلق میرا انٹرویو لیا تھا اور اپنے آپ کو دہرانے کے بجائے میں اس رپورٹ کا حوالہ دیتا ہوں۔

’پٹیل کہتے ہیں کہ نہ تو مودی اور نہ ہی واجپائی کوئی منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ دونوں میں قدرتی دنیا کے مشاہدے کی کمی ہے۔ ان کی نظمیں معمولی سی ہیں جس میں گہرائی نہیں پائی جاتی۔ واجپائی کے مقابلے میں مودی کی نظمیں ذرا اچھی ہیں کیونکہ وہ بعض تجریدی فکر کو سمجھتے ہیں۔ واجپائی کی شاعری سیدھی سادی بے رنگ سی ہے۔‘ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ یہی سچ ہے۔

اسی بارے میں