سرجیکل سٹرائیک یا سرحد پار فائرنگ؟

انڈین فوج لائن آف کنٹرول پر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق سرجیکل سٹرائیک کے لیے فوج کی بے پناہ مہارت کے ساتھ اعلیٰ پائے کی تکنیکی مدد بھی درکار ہوتی ہے

کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں انڈیا کے 'سرجیکل سٹرائیکس' کے دعوے اور پاکستان کی جانب سے اس کی تردید کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کیا ہے اور کیا لائن آف کنٹرول پر کسی بڑی کارروائی کے بغیر اور خاموشی سے سرجیکل سٹرائیک ممکن ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق سرجیکل سٹرائیک میں دشمن کے علاقے کے اندر جا کر کارروائی کی جاتی ہے اور کارروائی کے بعد زمینی علاقہ قبضے میں لینے کی بجائے حملے میں شریک فوج واپسی کی راہ لیتی ہے۔

ماہرین کے خیال میں ایسے آپریشن نہایت مشکل ہوتے ہیں اور اس کے لیے فوج کی بے پناہ مہارت کے ساتھ اعلیٰ پائے کی تکنیکی مدد بھی درکار ہوتی ہے۔

انڈین حکام نے لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل سٹرائیکس کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن ان حملوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انڈین وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بدھ کی شب کی جانے والی اس کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں مگر پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی اس بلا اشتعال فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار ایئر مارشل ریٹائرڈ شہزاد چودھری کا کہنا ہے کہ نہ تو بھارتی فوج کی جانب سے زمینی سرحد کی خلاف ورزی کی اطلاعات ہیں نہ ہی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ بھارتی فوجی پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'سرحد کی دونوں جانب بہت بڑی تعداد فوجی دستے تعینات ہیں، بھارتی میڈیا دو تین کلومیٹر کی بات کر رہا ہے، ایل او سی پر ہر پانچ سو میٹر پر فوجی پوسٹیں ہیں۔'

عسکری ذرائع کہتے ہیں کہ ایل او سی پر پاک فوج کی ایک کور سے زیادہ تعداد میں فوجی دستے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

شہزاد چودھری کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ اس وقت شمالی سرحدوں سے جنوبی سرحد تک پوری طرح فضائی حدود پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ' فضائیہ کے پاس بھی کسی فضائی خلاف ورزی کی رپورٹس نہیں ہیں۔'

انڈین برّی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر نصف شب شروع ہونے والا 'سرجیکل آپریشن' صبح تک جاری رہا جبکہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق 'گولیوں کا تبادلہ' رات دو بج کر تیس منٹ پر شروع ہوا اور صبح آٹھ بجے تک جاری رہا۔

کنٹرول لائن پر بطور بریگیڈیئر کمان کرنے والے پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل، امجد شعیب کا کہنا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں یہ ممکن نہیں کہ بھارتی فوجی چند گھنٹوں میں کارروائی ختم کر کے بغیر کسی نقصان کے واپس چلے جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایل او سی پر فوری ردعمل کے لیے تمام تیاری مکمل ہوتی ہے، یہ بڑے علاقے میں سیز فائر کی خلاف ورزی تو ہے مگر اسے سرجیکل سٹرائیک کسی طور نہیں کہا جا سکتا۔

'سرحد کی دونوں طرف موجود افواج کے درمیان فاصلہ نہایت کم ہے، نظر بچا کر سرحد پار کرنا ناممکن ہے،ایسا صرف باقاعدہ حملے کی صورت میں کیا جا سکتا ہے جو کہ نہیں ہوا۔'

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ ایل او سی پار کرنے سے پہلے وہاں موجود دفاعی مورچوں اور فوجی دستوں کو ختم کرنا پڑے گا، ہوائی جہازوں کے ذریعے دور کے علاقے میں کارروائی تو ممکن ہے ، مگر ہیلی کاپٹروں اور دیگر جہازوں کے خلاف کارروائی کے لیے اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم بھی ہر وقت تیار ہوتا ہے۔

'ہمارے ویپنز کا فاصلہ محض دو سو سے تین سو گز ہوتا ہے۔ '