لائن آف کنٹرول کے چھمب سیکٹر میں انڈیا اور پاکستان کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Ronald Grant
Image caption بان کی مون نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے مطابق پاکستان اور انڈیا کی فوج کے درمیان لائن آف کنٹرول کے چھمب سیکٹر میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پاکستانی فوج کی قید میں موجود انڈین فوجی کی رہائی کے لیے کوششیں شروع

انڈیا کے جارحانہ عزائم علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: نواز شریف

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب چار بجے چھمب سیکٹر میں انڈیا کی فوج نے بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی۔

بیان کے مطابق پاکستانی فوج نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی اور فائرنگ کا تبادلہ چار گھنٹے تک صبح آٹھ بجے تک جاری رہا تاہم بیان میں کسی جانی نقصان کے بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے جمعے کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اوڑی حملے کے بعد ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق ملاقات میں بان کی مون نے کہا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر دکھی ہیں۔

انھوں نے ملاقات میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور خطے میں تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے لیے اقوام متحدہ کا ملٹری آبزرور گروپ انڈیا کے عدم تعاون کے باعث پوری طرح کام نہیں کر رہا۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انڈیا اپنے بیانات اور اقدامات سے خطے اور بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔

انھوں نے سیکریٹری جنرل کو بتایا کہ’انڈیا کشمیر میں تسلط سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

اس حوالے سے انھوں نے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ملیحہ لودھی نے سارک سربراہ کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ مذاکرات کے لیے ایک بہترین موقع ہو سکتا تھا۔‘

خیال رہے کہ پہلے انڈیا اور پھر دیگر تین ممالک کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سارک سربراہ کانفرنس کو ملتوی کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ماہ سے جاری تشدد کے نتیجے میں جہاں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں وہیں پاکستان اور انڈیا کے باہمی تعلقات بھی شدید کشیدہ ہو چکے ہیں۔

اس کشیدگی میں مزید اضافہ رواں ماہ اوڑی کے علاقے میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ہوا ہے جس میں 18 انڈین فوجی مارے گئے تھے۔

حالات بدھ کی رات سے اس وقت مزید خراب ہوئے جب انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستانی پوسٹس پر فائرنگ کی جس سے دو پاکستانی فوجی مارے گئے۔

کشیدہ حالات کی وجہ سرحد کے دونوں جانب دیہات سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں