واہگہ میں پرچم اتارنے کی روایتی تقریب کے دوران ’بدمزگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت پاکستان کی درمیان واہگہ اٹاری سرحد پر روزانہ پرچم اتارنے کی تقریب کے دوران پاکستانی ناظرین کی جانب سے اتوار کو سرحد پار پتھر پھینکے گئے۔

امرتسر میں صحافی روندر سنگھ روبن نے بھارتی سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مطابق دو پتھر سرحد کی دوسری طرف وی آئی پی گیلری میں بیٹھے بھارتی شہریوں کو لگے ہیں لیکن کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی ہے۔

واقعہ کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے حکام کے درمیان پاکستان کے سامعین کے رویے سے متعلق فلیگ میٹنگ ہوئی ہے۔

بھارت کی طرف سے ’سرجیکل سٹرائیک‘ کے دعوؤں کے بعد سے ہی پرچم اتارنے کی روایتی تقریب کے دوران بھارت نے لوگوں کے شامل ہونے پر پابندی لگا دی تھی اور اس فیصلے کا اطلاق دو اکتوبر تک ہونا تھا۔

لیکن اتوار کو تقریبا ڈیڑھ سو سے دو سو افراد کو بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام تقریباً سوا پانچ بجے جب پرچم اتارنے کی تقریب شروع ہوئی تو پاکستان کی جانب بیٹھے کچھ ناظرین نے ہندوستان کی طرف وی آئی پی گیلری میں بیٹھے لوگوں پر مبینہ طور پر پتھر پھینکے۔

اس میں کسی کو کوئی سنگین چوٹ نہیں لگی۔

واقعہ کے فوراً بعد بارڈر سکیورٹی فورس نے اس کی اطلاع پاکستانی رینجرز کو دی، جس کے بعد تقریب کا اختتام ہوا۔

اتنا ہی نہیں، پاکستان رینجرز کی موجودگی میں ہی پاکستانیوں نے لاؤڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی حمایت میں نعرے بھی لگائے گئے.

بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق، اس واقعے کے پیش نظر وہ اگلے ایک ہفتے تک اس تقریب میں لوگوں کی موجودگی پر پابندی لگا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں