غدار فیکٹری کی مصنوعات

بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کہتے ہیں کہ گذشتہ نومبر میں براہمداغ بگٹی سے انھوں نے اور وزیرِ سرحدی امور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے جنیوا میں ملاقات کے دوران انھیں پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے اور قومی سکیورٹی کو چیلنج نہ کرنے پر آمادہ کر لیا مگر اسلام آباد نے معاملات آگے بڑھانے کا موقع ضائع کردیا اور اب خرابی آگے بڑھ چکی ہے۔

براہمداع نے بات چیت کے بعد بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق بھی کی کہ وہ وفاق کے دائرے میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں اب یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتی ہے۔

کل کی نسل پس منظر جانے بغیر بس یہی جان پائے گی کہ براہمداغ ایک غدار تھا۔

ایوب خان کی ناک کے بال الطاف گوہر کے بقول جس وقت بھارت سے مل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سازش کے الزام میں اگر تلہ کیس کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو شیخ مجیب الرحمان پہلے ہی سے جیل میں تھے مگر بّری فوج کے سربراہ یحییٰ خان مصر تھے کہ مجیب کا نام بھی ڈالا جائے۔ الطاف گوہر کے بقول مجیب کا نام ایوب خان کے کہنے پر ملزموں کی ابتدائی فہرست سے نکال دیا گیا مگر پھر شامل کر لیا گیا۔ اس مقدمے نے مجیب کو بنگالیوں کا ہیرو بنا دیا۔ ایوب خان کے خلاف تحریک نے زور پکڑا تو بعد از خرابی بسیار 19 فروری 1969 کو اگرتلہ کیس نہ صرف واپس لے لیا گیا بلکہ مجیب کی سیاسی بحالی بھی کرنا پڑی ۔

مشرقی پاکستان کے سابق گورنر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) محمد احسن نے لکھا کہ بعد از انتخابات '28 فروری 1971 کو میں نے شیخ مجیب کو بلایا۔ شیخ نے پوچھا کیا اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے جا رہا ہے۔ میں نے کہا خدشہ یہی ہے تاہم یہ مختصر مدت کے لیے ہوگا ۔ لیکن مجیب نے کہا کہ اسے یقین نہیں۔ پاکستانی حکام اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو بھی سلامت نہیں رکھنا چاہتے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ اس تباہی کا الزام کس پر دھرا جائے۔' ( جیون ایک کہانی از صحافی علی احمد خان صفحہ 106)۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب 1946 میں ہندوستان کی عبوری کابینہ بنی تو جناح صاحب نے جن پانچ مسلم لیگی وزرا کے نام وائسرائے لارڈ ویول کو بھجوائے ان میں دلت سیاستداں جوگندر ناتھ منڈل کا نام بھی تھا۔ یہ منڈل ہی تھے جنھوں نے سلہٹ کے ریفرینڈم میں دلتوں کے ووٹ پڑوا کے سلہٹ کو پاکستان میں شامل کروایا۔

11 اگست 1947 کو کراچی میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے صدر بھی جوگندر ناتھ منڈل تھے۔ وہ پہلی کابینہ میں قانون اور محنت کے وزیر رہے۔ جناح صاحب کی وفات کے بعد قرار دادِ مقاصد کی منظوری سے منڈل صاحب اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں دل شکستہ ہونے کے باوجود حکومت کا حصہ رہے۔

پیر علی محمد راشدی 'رودادِ چمن' میں لکھتے ہیں کہ چوہدری محمد علی جب پاکستانی بیورو کریسی کے سکریٹری جنرل بنے تو انھوں نے نجی محفلوں میں وزیرِ قانون کی 'پاکستانیت' پر شبہہ ظاہر کرنا شروع کردیا اور اہم فائلیں وزیرِ قانون کے ملاحظے کے لیے بھیجنا بند کردیں۔ منڈل نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو ایک خط لکھا اور پھر کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔

چند دن بعد منڈل صاحب خاموشی سے کلکتہ منتقل ہوگئے اور 1968 میں خاموشی سے چل بسے۔ اس دوران کسی پاکستانی کو توفیق نہ ہوئی کہ منڈل صاحب کو منانے کی ایک بار بھی کوشش کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Hashmi

کسی سرکاری کو توفیق نہ ہوئی کہ ساحر لدھیانوی، بڑے غلام علی خان یا قرۃ العین حیدر سے پوچھ لیتا پاکستان چھوڑ کے بھارت کیوں جا رہے ہو۔ رک جاؤ نا۔ دل شکستہ مت ہو۔ اس ملک کو تمہاری بہت ضرورت ہے۔ منٹو یہی طے کرتا کرتا مر گیا کہ رہوں کہ نہ رہوں۔۔۔

یاروں نے بہت کوشش کی کہ حسین شہید سہروردی اور فیض صاحب بھی پاکستان سے مستقل بوریا بستر لپیٹ لیں مگر دونوں کی قوم پرستانہ ڈھٹائی آڑے آتی رہی۔

غفار خان کو بعد از مرگ جلال آباد میں دفن ہونے کے بعد اشرافیہ نے جبری پاکستانی کے طور پر قبول کر لیا۔

جی ایم سید اور نواب خیر بخش مری اور اجمل خٹک کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ غدار کہا پھر گلدستہ پیش کیا اور پھر غدار کہا۔ اب ان کی قبر پر چادر چڑھانے کی اجازت ہے۔ مگر اکبر بگٹی کی قبر پر نہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام کو کوئی منہ سے غدار نہیں کہتا مگر سلوک غداروں والا ہی ہوا۔ بس یہ مہربانی ہوئی کہ جنم بھومی میں دو گز زمین عطا ہو گئی۔

ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں (اقبال)

اسی بارے میں