ڈیرہ اسماعیل خان سے تین غیر مقامی افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

Image caption مقتولین میں سے دو کا تعلق جنوبی وزیرستان اور ایک کا ٹانک سے بتایا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی ہیں۔

٭ ضلع کیچ سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

پولیس کے مطابق ان افراد کی لاشیں منگل کی صبح ملیں جن میں سے دو افراد کا تعلق جنوبی وزیرستان ایجنسی اور ایک کا تعلق ضلع ٹانک سے ہے۔

پولیس انسپکٹر عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح انھیں اطلاع موصول ہوئی کہ ٹانک روڈ پر بڈھ کے قریب تین افراد کی لاشیں پڑی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے تنیوں لاشوں کو تحویل میں لے کر سول ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا ہے۔

تینوں افراد غیر مقامی تھے۔ ان میں عبدالغنی ولد شاکم خان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا سے بتایا گیا ہے جبکہ ان دنوں وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مدینہ کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ ان کی عمر 42 سال تک بتائی گئی ہے۔

ایک کی شناخت عطا اللہ کے نام سے ہوئی ہے اور ان کی تعلق ضلع ٹانک سے تھا اور ان کی عمر 50 سال تک بتائی گئی ہے۔

اسی طرح ایک کی شناخت محمد غنی ولد علی جان کے نام سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان ایجنسی سے تھا۔ ان کی عمر 30 سال تک بتائی گئی ہے۔

بڈھ کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں ٹانک روڈ پر واقع ہے جہاں سے ایک راستہ کلاچی کی جانب بھی جاتا ہے۔ اس علاقے میں شدت پسندی کے بھی متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

عدنان خان نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھیں کس نے قتل کیا اور اس کی کیا وجہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ یہ لوگ غیر مقامی تھے اور انھیں اب تک معلوم نہیں ہے کہ ان قتل کے پیچھے کیا کہانی ہے اس بارے میں پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ ‘

اس سے پہلے بھی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے اس طرح لاشیں ملتی رہی ہیں جن میں ایسے شدت پسند بھی مارے جا چکے ہیں جو قانون نافذ کر ے والے اداروں کو مطلوب تھے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا ان افراد کا تعلق شدت پسندوں سے تھا، یا انھیں ذاتی دشمنی کی بنا کر مارا گیا ہے یا پھر یہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں قتل کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات