’امن کی مشترکہ کوششوں کے حامی ہیں لیکن کسی کی بالادستی قبول نہیں‘

شنل ایکشن پلان پر اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption قومی سلامتی کے اجلاس سے پہلے نشنل ایکشن پلان پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا

پاکستان نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں غلط فہمی میں نہ رہے اور اگر کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت ہوئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے لیکن وہ کسی کی بالادستی قبول نہیں کرے گا۔

٭ ایل او سی پر کشیدگی برقرار، امریکہ کی پاکستان اور انڈیا سے تحمل کی اپیل

لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں'انڈین فائرنگ' جسے انڈیا نے'سرجیکل سٹرائیک' قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو کھوکھلے موقف اور جارحانہ اقدامات سے نہیں دھمکایا جا سکتا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر صورت میں ملک کا دفاع کیا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ کشمیر کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کشمریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

اس اعلامیے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بھارت کو اس کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بند کرنا ہوگا۔

اجلاس میں سکیورٹی سے متعلق ملک کی اندرونی اور بیرونی صورت حال اور بلخصوص مشرقی سرحدوں میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کی جانے والی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

سیکرٹری خارجہ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے بارے میں جبکہ فوجی حکام نے بھارت کے ساتھ سرحد اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا۔

اجلاس میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

اس اجلاس سے ایک دن پہلے پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں