پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کی برسی کی تقریب پر حملہ کرنے والوں کی سزا برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاہور ہائیکورٹ نے مجرموں کی سزا کو برقرار رکھا ہے

لاہور ہائیکورٹ نے مقتول گورنر پنجاب کی برسی کی تقریب پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا پانے والے پانچ مجرموں کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی کی سزا کو برقرار رکھا۔

سزا پانے والے پانچ مجرموں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کی سولہ برس سے زائد کی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا.

مجرموں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی اور استدعا کی کہ ان کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس عبدالسمیع خان اور جسٹس عباد الرحمان لودھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مختصر فیصلے میں مجرموں کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے گزشتہ برس 27 جولائی کو جرم ثابت ہونے پر عدیل، فرقان، افتخار، وزیر علی اور کاشف منیر کو سزا سنائی تھی۔

مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر ایک مجرم کو 16 سال اور چھ ماہ کی سزا سنائی گئ تھی.

مجرموں پر الزام تھا کہ انھوں نے لاہور کے معروف علاقے لبرٹی چوک پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی چوتھی برسی کے سلسلے میں حملہ کیا اور تقریب میں شریک افراد کو نقصان پہنچایا.

اس واقعہ کا مقدمہ سماجی کارکن عبداللہ ملک کی مدعیت میں تھانہ گلبرگ میں درج کیا گیا تھا.

لاہور ہائیکورٹ کے روبرو اپیل کی سماعت کے دوران مجرموں کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدم ثبوت کی بنا پر سزا دی گئی ہے اور عدالت نے وقوعہ کے حقائق کو نظر انداز کیا ہے.

وکیل صفائی نے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے.

پنجاب حکومت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر خرم خان نے اپیل کی مخالفت کی اور بتایا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تمام گواہوں کے بیانات سننے اور ٹھوس شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سزا سنائی ہے۔

سرکاری وکیل نے یہ بھی بتایا کہ عدالت میں دیگر ثبوتوں کے علاوہ ویڈیو بھی پیش کی گی جس میں مجرموں کی بآسانی شناخت کی جاسکتی.

ڈپٹی پراسیکیوٹر خرم خان نے استدعا کی کہ اپیل کو مسترد کر دیا جائے.

خیال رہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان سرکاری محافظ نےدوران ڈیوٹی فائرنگ ہلاک کر دیا تھا۔