ایم کیو ایم کی رجسٹریشن کی منسوخی کی درخواست پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption درخواست میں ایم کیو ایم ممبران کی سینیٹ اور اسمبلیوں سے رکنیت ختم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

پاکستان کی لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن کی منسوخی کے لیے درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کو 17 اکتوبر کو طلب کرلیا ہے۔

٭ ایم کیو ایم کےخلاف درخواست فل بینچ کے حوالے

٭ 'ایم کیو ایم کے آئین میں ترامیم، قائد تحریک کا نام خارج'

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بنچ نے مقامی وکیل سردار آفتاب ورک کی درخواست پر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے وفاقی حکومت کی وکیل کو جواب داخل کرنے کے مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان عدالت میں پیش ہوں۔

بدھ کے روز سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد سے 22 اگست کو پاکستان مخالف تقریر کی جس سے بات ثابت ہوگئی کہ ایم کیو ایم ملک کی وفادار جماعت نہیں ہے اس لیے اس کی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن منسوخ کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ متحدہ قومی موومنٹ نے لندن سیکریٹیریٹ سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا

احمد اویس ایڈووکیٹ نے فل بنچ کو بتایا کہ ایم کیو ایم کی رجسٹریشن کی مسنوخی کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست دی لیکن ابھی تک وفاقی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے حلف کا حوالہ دیا اور کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کی نظریاتی حفاظت اور سالمیت کے تحفظ کا حلف لیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس کی پابند ہے کہ وہ اس سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرے جو محب وطن نہ ہو۔ آئین کے تحت حکومت ملک کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس مظہر اقبال سندھو اور جسٹس ارم سجاد گل شامل ہیں۔

تین رکنی فل بنچ کے روبرو وفاقی حکومت کی وکیل حنا حفیظ نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے بارے میں معاملہ زیر غور ہے اور وزارت قانون سے رائے مانگی گئی ہے۔

سرکاری وکیل کے بقول کارروائی کےلیے موزوں فورم الیکشن کمیشن ہے۔

سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر کے بعد رینجرز نے کارروائی کی ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا رینجرز کی کارروائی سے قانونی تقاضے پورے ہوگئے ہیں۔

سرکاری وکیل حنا حفیظ نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے خود بھی اپنے قائد سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ گیند دوبارہ ایم کیو ایم کے کورٹ میں ہے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وزارت داخلہ کے جواب پر برہمی کا اظہار کیا اور قرار دیا اور کہا کہ حکومتی جواب سے سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی تاہم ہائیکورٹ کے فل بنچ نے یہ استدعا منظور نہیں کی اور اٹارنی جنرل پاکستان سے طلب کرلیا ہے۔

اسی بارے میں