مغربی روٹ کو چین پاک اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کیا جائے: قرارداد

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ مغربی روٹ کو چین پاک اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کیا جائے اور اسے وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق وقت سے پہلے مکمل کیا جائے۔

اس متفقہ قرارداد کی منظوری میں پاکستان مسلم لیگ نواز، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف)، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور دیگر تمام جماعتیں شامل تھیں۔

اس قرار دادا میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت یہ یقین دہانی کرائے کہ مغربی روٹ پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک کا حصہ ہے اور اس منصوبے کو ترجیح حاصل ہے۔ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس میں جو فیصلے کیے گئے تھے ان پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ یہ قراردار ایوان میں قومی وطن پارٹی کی رہنما اور صوبائی وزیر برائے معدنیات انیسہ زیب نے پیش کی۔

اجلاس سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں اس قراردار پر بحث کی گئی جہاں اس قرار داد کے حوالے فیصلے کیے گئے۔

اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سی پیک کے حوالے سے جو آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اے پی سی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہو گا اور یہ کہ اس پر کام پہلے شروع ہوا اور پہلے مکمل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اسمبلی اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں پچاس کلومیٹر روڈ سی پیک نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مغربی روٹ کو ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے ژوب، کوئٹہ اور گوادر تک ملایا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس پر وہ تمام ترقیاتی کام کیے جائیں جو سی پیک کی ضروریات میں شامل ہیں جن میں روڈ کے ساتھ سکیورٹی، فائبر آپٹک، ریلوے لائن، صنعتی زون اور دیگر ترقیاتی کام ضروری ہیں۔

اس قرارداد میں ایک اہم نقطہ یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سربراہی میں پارلیمانی اراکین کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے جو سی پیک کے منصوبے کی تکمیل تک وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی کے ہمراہ اس منصوبے اور اس سے متعلق ہونے والے فیصلوں سے مسلسل آگاہی رکھیں گے اور منصوبے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے یعنی یہ کمیٹی نگرانی کاکام سرانجام دے گی۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ وفاقی حکومت وعدے تو کر رہی ہے لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اسی لیے چند روز پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے جن میں وزیر اعظم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ پختونوں کے ساتھ وعدہ خلافی کر رہے ہیں۔

اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر سردار اورنگزیب نلوٹا نے کہا کہ وفاقی حکومت اس مغربی روٹ کو ضرور مکمل کرے گی اور اس پر کام بھی جاری ہے۔

حزاب اقتدار کے اراکین نے اس موقع پر کہا کہ سی پیک کا مغربی روٹ صرف ڈیرہ اسماعیل خان تک نہیں بلکہ وہ گوادر تک راہداری چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں