پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم

چار ملکی گروپ

کچھ عرصہ قبل اس خطے کے تین اور ایک سات سمندر پار ملک نے ہفتہ وار ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس کے لیے ایک مشکل سا نام کوآڈیلیٹرل گروپ بھی رکھا گیا تھا۔

معلوم نہیں کہ یہ بھاری بھرکم نام اس نظام مشاورت کو لے ڈوبا یا اس خطے کی پیچیدہ سیاست۔ لیکن اب اس نظام کی فلاپ فلم چھ سات ماہ تک چلنے کے بعد بند ہوچکی ہے۔ شائقین واپس جا چکے ہیں اور فی الحال اس فلم کے دوبارہ چلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پاکستان، چین، افغانستان کے علاوہ مہمان اداکار امریکہ پر مشتمل اس گروپ کے کئی بھرپور میڈیا شوز ہوئے، سنا ہے ایک آدھ خصوصی شو مری جیسے پر فضا مقام پر بھی ہوا لیکن یہ بھی اسے دوام نہ دے سکا۔

فلم کے سکرپٹ پر کئی اجلاسوں میں جو بھی عرق ریزی ہوئی وہ ریزہ ریزا ہو گئی۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈاکٹر اشرف غنی کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے شروع ہونے والا ہنی مون سیزن ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک مرتبہ پھر تعطل نے لے لی ہے۔

اسلام آباد میں بعض سفارت کاروں سے بات ہوئی تو وہ اس چار ملکی نظام کو بحال رکھنے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اگر پیش رفت نہیں بھی ہو رہی لیکن ایک میکنزم کی موجودگی سے امید بندھتی ہے کہ کم از کم رابطے تو بحال ہیں۔ لیکن اس نظام کے ناقدین کا اصرار ہے کہ یہ سلسلہ جاری رکھنا ایک ’غلط تاثر‘ یا ’امید کا سراب‘ تخلیق کرتا ہے۔ جب فائدہ کچھ نہیں تو اس کو رکھنے کا کیا فائدہ؟

افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد مصالحتی عمل کو ایک مرتبہ پھر شدید دھچکا لگا۔ ملا اختر منصور چونکہ ملا عمر کی دو سال قبل ہلاکت کی وجہ سے کنٹرول میں تھے اور ایک آدھ مرتبہ مری میں ملاقات کی اجازت دے سکتے تھے۔

اب نئے امیر ہبت اللہ اخونزادہ کے لیے مذاکرات شاید فوری ترجیحات نہیں ہیں۔ ان کی توجہ محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ تنظیم پر اپنی رٹ استوار کرنے پر ہے۔ انھی وجوہ کی بنا پر وہ نہ تو زیادہ بیانات دے رہے ہیں اور نہ ہی مصالحت کے کوئی اشارے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سارک کانفرنس میں افغانستان کی جانب سے شمولیت سے انکار سے تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہو گئے

سات اکتوبر کو افغانستان میں طالبان حکومت پر امریکی حملے کے 15 برس مکمل ہونے پر ایک پیغام میں طالبان نے جو واحد مطالبہ سامنے رکھا وہ تھا مکمل امریکی انخلا۔ بات چیت کا غلطی سے بھی ذکر نہیں کیا۔

پیغام کے مطابق امریکی حملے کے نتیجے میں آج کابل میں بقول ان کے ’بدعنوان حکومتی نظام قائم ہوا ہے۔‘

ویسے افغان حکومت میں بدعنوانی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، آج بھی ایک امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہزاروں ’گوسٹ فوجی‘ پائے گئے ہیں جو تنخواہیں اور مراعات تو لے رہے ہیں لیکن کام کچھ نہیں کر رہے۔

افغان حکومت سے متعلق سب سے بڑی تشویش کی بات آج کل صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے درمیان تلخیاں ہیں، اور سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ کے کابل میں تعینات سفیر کا آج کل زیادہ وقت ان دونوں کے درمیان مصالحت کروانے میں گزر رہا ہے۔

افغانستان میں یہ ساری افراتفری وہاں حالات میں بہتری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، لیکن ملبہ سب سے زیادہ آج بھی پاکستان پر ہی گرایا جا رہا ہے۔ عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے پاکستان کے دورے بھی افغانستان کی اندرونی اور بیرونی صورت حال کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان سے افغان پناگزینوں کی واپسی سے بھی تلخی میں اضافہ ہوا ہے

افغانستان کے اسلام آباد میں سارک سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار سے تعلقات مزید پستی میں گرے ہیں۔ اگرچہ اب افغان حکام کہہ رہے ہیں کہ افغانستان نے بھارت سے قبل ہی اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن اس کا اعلان وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد ہوا تو اس کا تاثر یقیناً بہت منفی پیدا ہوا ہے۔

شاید اس خطے کو ایک مرتبہ پھر پاکستان یا افغانستان میں نئی حکومت کے آنے کا انتظار کرنا ہو گا تاکہ ایک نیا ہنی مون پیریڈ شروع ہو۔ اس کے علاوہ سفارتی افق پر چھائے تعطل کے بادل چھٹنے کا امکان کم کم ہی دکھائی دے رہا ہے۔

اسی بارے میں