سوات کی حدیقہ ایشیائی لڑکیوں کی سفیر مقرر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی نویں جماعت کی طالبہ حدیقہ بشیر کو ایشین گرلز کی سفیر مقرر کیا گیا ہے، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی لڑکی ہیں۔

یہ اعلان پیر کے روز تائیوان میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا۔ تقریب میں انھیں اس حوالے سے ایشین گرلز کی سفیر کی شیلڈ پیش کی گئی۔

ایشین گرلز کی سفیر کی تقرری کے حوالے سےمنعقد ہونے والا یہ چوتھا مرحلہ ہے۔ پہلے دو مرحلوں میں انڈیا کی لڑکیوں کو سفیر مقرر کیا گیا تھا جبکہ تیسرے مرحلے میں تائیوان کی ایک لڑکی کو سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم اس سال پاکستان کی حدیقہ بشیر کو ایشیائی لڑکیوں کی سفیر مقرر کردیا گیا ہے۔

سوات سے مقامی صحافی انور شاہ کے مطابق حدیقہ بشیر سفیر مقرر ہونے کے بعد خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کرتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ اعزاز کوئٹہ اور مردان میں ہلاک ہونے والے وکلا اور کشمیر میں ہلاک ہونے والوں کے نام کرتی ہیں۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب وہ ایشیا میں مظلوم خواتین کی حوصلہ افزائی کریں گی اور ان کی آواز بن کر ان کے حقوق کے حوالے ایک شعوری مہم چلائیں گی اور انتھک جدوجہد کے ذریعے ظلم کے شکار خواتین اور لڑکیوں کو ان کے انصاف دلانے کی کوشش کریں گی۔

اس کے لیے وہ ہر جگہ لڑکیوں کے ایسے گروپس بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں جنہیں قانونی مدد اور تحفظ حاصل ہو تاکہ وہ ناانصافی کے راہ میں مضبوط روکاوٹ بن سکیں۔

پاکستان میں خواتین کے غیرت کے نام پر قتل اورحقوق کے حوالے سے پاس ہو نے والے بل پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور امید کا اظہار کیا کہ اس بل سے عورتوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہوگا تاہم ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر اس کو نافذ العمل بنائے۔

مینگورہ شہر کے رہائشی لڑکی گل خوبانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کی لڑکیاں اور خواتین، ملالا یوسف زئی، تبسم عدنان اور حدیقہ بشیر مستحکم دلائل اور پوزیشن کے ساتھ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئ ہیں کہ یہاں خواتین نہ صرف مکمل طور پر آزاد ہے بلکہ وہ اپنے مستقبل اور قسمت کے فیصلوں میں خود مختار بھی ہیں۔

خیال رہے کہ پندرہ سالہ حدیقہ بشیر کا تعلق دہشت گردی سے متاثرہ علاقے سوات سے ہے جہاں وہ ہر قسم کےخوف کو پس پشت ڈال کر لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کےخلاف مہم چلارہی ہیں۔ ان کی جدو جہد کی یہ رفتار اگر چہ اتنی تیز نہیں لیکن پھر بھی لوگوں کی بڑی تعداد ان کے اس پیغام کو تسلیم کرکے اس پر عمل پیرا بھی ہے۔

حدیقہ بشیرکو انہی خدمات کے اعتراف میں گذشتہ برس امریکہ میں انسانی حقوق کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

اسی بارے میں