پاناما لیکس: وزیراعظم کا الیکشن کمیشن میں جواب دائر

nawaz sharif تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کی طرف سے ان درخواستوں پر جو اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں اُن پر جواب دینے کے لیے تیار ہیں

پاکستان کے وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے پر اُن کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن میں دائر درخواستوں پر جواب داخل کروادیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بغیر ثبوتوں کے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔

سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی وساطت سے محمد نواز شریف کی طرف سے جمع کروائے گئے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار جن معاملات کے ثبوت ہی فراہم نہیں کرسکے اُن درخواستوں کو کیسے قابل سماعت قرار دیا جاسکتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ ارکان پر مشتمل اس خصوصی بینچ نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اس جماعت کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ان درخواستوں میں وزیر اعظم پر الزامات عائد کیے ہیں ان کے ثبوت بھی فراہم کرنا بھی درخواست گزاروں کی ذمہ داری ہے لیکن ان درخواستوں کے ساتھ کوئی ثبوت لف نہیں کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان تحریک انصاف نے پانامالیکس کے معاملے پر وفاقی دارالحکومت کو 30 اکتوبر کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

محمد نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب پانامالیکس میں اُن کا نام ہی نہیں ہے تو پھر ان درخواستوں کی بادی النظر میں کوئی قانونی حثیت نہیں بنتی۔ اس جواب میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردے۔

اس جواب میں الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن جھوٹ پر مبنی ان درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتا۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کی طرف سے ان درخواستوں پر جو اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں اُن پر جواب دینے کے لیے تیار ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اُنھیں دلائل کی تیاری کے لیے وقت چاہیے۔

عدالت کے ایک ہفتے کاوقت دیا تاہم حامد خان کا کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات بھی ہور ہے ہیں اس لیے اگلے ماہ کی کوئی تاریخ دے دی جائے جس پر الیکشن کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت دو نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پانامالیکس کے معاملے پر وفاقی دارالحکومت کو 30 اکتوبر کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں