صحافی کا نام ای سی ایل میں: صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ copyrightAFP

پاکستان کی صحافتی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے انگریزی روزنامے ڈان کے رپورٹر سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کے حکومتی اقدام کی مذمت کی جاری ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل سے خارج کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

٭ پاکستانی تاریخ میں صحافیوں پر پابندیاں

٭ قومی سلامتی سے متعلق خبر: 'ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی'

٭ قومی مفاد اور صحافت

خیال رہے کہ معروف صحافی سرل المائڈا نے گذشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

سینئر صحافی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مجھے بتایا گیا ہے اور شواہد دکھائے گئے ہیں کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔‘ انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’میں آج رات بہت اداس ہوں۔ یہ میری زندگی، میرا ملک ہے۔ کیا غلط ہو گیا۔‘

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’میرا کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ یہ میرا گھر ہے۔ پاکستان۔`

منگل کو اپنے بیان میں صحافتی تنظیم اے پی این ایس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آزادی اظہار آئینی حق ہے اور حکومت جابنداری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے کسی بھی صحافی کی خلاف شکایت پریس کونسل میں لے جاسکتی ہے۔

تنظیم نے المائڈا کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے۔

دیگر صحافتی تنظیموں جن میں پاکستان فیڈرل یونیئن آف جرنلسٹ اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ شامل ہیں نے سرل المائڈا پر لگائی جانے والی پابندی پر احتجاج کیا ہے۔

پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے جو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے۔

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرل المائڈا کے نام کو فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے اور اگر حکام کو اس حوالے سے کوئی بھی تشویش ہے تو وہ قانونی ضابطوں کے مطابق اس پر کارروائی کریں اور اس میں صحافتی آزادی کے بین القوامی معیار کو بھی مد نظررکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی سرل کے نام کو ای سی ایل میں ڈالے جانے پر شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ صحافیوں کو خاموش کرنے کا اقدام ہے۔

ادارے نے پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیانات میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کو بھی سخت قرار دیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے لبادے میں صحافیوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔

ای سی ایل میں نام ڈالنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ داخلہ کی طرف سے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ایک خصوصی حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں سرل امائدہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کہا گیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق پاکستان میں ای سی ایل میں کسی بھی شخص کا نام ڈالنے کا طریقہ کار واضح ہے جس کے مطابق عدالتی حکم، ایف آئی اے یا قومی احتساب بیورو کی درخواست پر اور یا پھر کسی سنگین مقدمے میں ملوث ملزم کے بیرون ملک فرار ہونے کے خدشے کے پیش نظر پولیس یا صوبائی حکومت کی طرف سے وزارت داخلہ کو دی جانے والی درخواست پر اس کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جاتا ہے۔

قانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرل المائڈا اس معاملے کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کرسکتے ہیں کیونکہ اُن کے بقول اس معاملے پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کی سات تاریخ کو سرل المائڈا نے خبر دی تھی کہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سول اور فوجی قیادت کے درمیان دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے۔

اخبار کا موقف

ڈان اخبار نے اس پر ردِعمل میں لکھا ہے کہ اس کی خبر، ’جسے ایوانِ وزیرِ اعظم نے من گھڑت قرار دیا ہے، اس کی متعدد بار تصدیق کی گئی تھی اور اس کے حقائق ہر طرح سے پرکھے گئے تھے،‘ اور یہ کہ ’ایک سے زیادہ ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی تھی۔‘

تاہم حکومت کی جانب سے اس خبر کی متعدد بار سختی سے تردید کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یہ خبر اس لحاظ سے بےحد حساس تھی کہ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل انڈیا نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں قائم شدت پسند تنظیموں کے اراکین نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر 18 فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔

اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات بےحد کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

گذشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ ایک بیان میں گذشتہ ہفتے ملک کے مقتدر اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایوانِ وزیرِ اعظم میں ہونے والے اجلاس میں ڈان کی خبر کو من گھڑت قرار دیا گیا

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس غلط اور گمراہ کن مواد جس کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے کوئی تعلق نہیں تھا کی اشاعت سے قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایوانِ وزیر اعظم کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں میاں نواز شریف نے ہدایت کی تھی کہ اس خبر کے ذمہ داروں کا سراغ لگا کر اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاہم اس بیان سے یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ہدایات سرکاری اہلکاروں کے لیے ہیں جنھوں نے یہ معلومات افشا کی تھیں یا جس صحافی نے یہ خبر دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں