قومی مفاد اور صحافت

ڈان نیوز کی کہانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخبار کا تاہم اصرار ہے کہ ان کی کہانی حقائق پر مبنی ہے

ریاست ایک مرتبہ پھر بولی ہے اور اس نے اپنے الفاظ سے نہیں بلکہ کارروائی سے پھر دو ٹوک انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’قومی مفاد میں طے کی جانے والی پالیسیوں‘ پر کسی کو بات کرنے یا صحافیوں کو رپورٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ سب ریاست کا کام ہے اسے مکمل تندہی سے کرنے دیں۔ پچھلی تین دہائیوں سے لگی اس خاموشی کو توڑنے کی کوشش ہرگز نہ کریں، چاہے اس کی وجہ سے 60 ہزار سے زائد جانیں جاتی ہیں تو جائیں، ہمسائے دشمن ہو جائیں تو ہونے دیں، معیشت غیریقینی کیفیت کے ہاتھوں مسلسل یرغمال بنی رہے تو بننے دیں۔ ریاست کے پاس جہاں طاقت ہے اختیار ہے وہیں وہ عقل کُل بھی ہے، سب مان جائیں۔ اور خاموش رہیں۔

اس بارے میں بی بی سی اردو کی۔

انگریزی روزنامہ ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کی خبر میں ایسا کیا تھا جس پر ریاست ایک مرتبہ پھر جھنجلائی ہے۔ یہ خبر جو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں ایک اجلاس کی اندرونی کہانی تھی جسے سرکاری طور پر بھی ردعمل میں ’آدھا سچ` قرار دیا گیا۔

سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان شدت پسندی کے معاملے پر اس قسم کی گفتگو روز ہوتی ہوگی۔ سیاسی و فوجی قیادتوں میں اختلافات کی خبریں کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں شاید فوج کو ڈانٹنے یا دبانے والی بات پر سرکاری سطح پرتشویش ہوگی۔ اب یہ تو لوگوں پر تھا کہ وہ اس کہانی کا آدھا سچ کسے مانیں اور آدھا جھوٹ کسے تسلیم کریں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سڈیز کے محمد عامر رانا کا کہنا تھا کہ بین القوامی سطح پر پاکستان کے خلاف بننے والی فضا کا اس میں بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ’اوڑی کا واقع ہوا اور پاکستان ابتدا میں انڈین کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کامیابی سے اٹھاتا رہا لیکن پھر یک دم موڈ تبدیل ہونے لگا بین القوامی میڈیا اور انٹرنیشنل ڈسکورس۔‘

’پھر جب بھی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سستی روی کی بات ہوتی تو وجہ وہی آ جاتی کہ کالعدم تنظیمیں ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ ڈان کی خبر سے ہمیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ حکومت کے اندر کیا بات چل رہی ہے۔ اس خبر میں سول ملٹری تعلقات کی بابت کوئی نئ بات نہیں ہے لیکن ایک بات ہے کہ کیا وزیر اعظم اتنے بااختیار ہوگئے ہیں کہ وہ کسی کو کہہ سکیں کہ کوئی کام ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے۔‘

تاہم اخبار کا اصرار ہے کہ ان کی کہانی حقائق پر مبنی ہے اور کئی ذرائع سے اس کی تصدیق کی گئی ہے۔ مدیر کا مزید کہنا ہے کہ ’پیغام لانے والے‘ کو تو کم از کم نشانہ نہ بنائیں۔ لیکن یہ کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں ہوا۔ کون سا قومی دھارے کا بڑا اخبار، چینل یا صحافی ہے جس پر ’غداری‘ کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ اس اعتبار سے تو یہ حکمران ہوں نہ ہوں قوم عجیب ضرور ہے۔ خبر میں اونچ نیچ ہوسکتی ہے لیکن کیا اس کا جواب یہی ردعمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سینئر صحافی اور ڈان کے اینکر عمر فاروق کہتے ہیں کہ پاکستان میں دو الفاظ کے لکھنے سے ریاست اتنی گھبرا کیوں جاتی ہے؟ ’کسی نے کچھ لکھ دیا اور ریاستی مشینری اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ ایسے نہیں چلے گا۔ ریت پر ریاست کی بنیاد نہ بنائیں۔‘

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے حکومت زیادہ حساس ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رپورٹ کچھ دن بعد چلتی تو شاید اتنا سخت ردعمل سامنے نہ آتا۔

عامر رانا کے خیال میں اس وقت اس اقدام سے سیاسی قیادت ایک مرتبہ پھر بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔

ایک وجہ شاید حالیہ دنوں میں پارلیمان میں خود حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے اراکین کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر کڑی تنقید بھی ہوسکتی ہے۔ اس سرکاری موقف کی بھی کھڑے ہونے کے لیے ٹانگیں نہیں رہتی کہ سرحد پار چاہے مغرب میں یا مشرق میں حملے اگر یہ عناصر کر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار ریاست کو نہ قرار دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایسی صورتحال میں ریاست پھر کس مرض کی دوا ہے؟ جب ببانگ دہل کہا جاتا ہے کہ سرزمین کسی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی تو اس کا مطلب کیا ہے؟

وہ کہتے ہیں ناں کہ آخر کیا ہے جس کی اتنی پردہ داری ہے۔ ملا اختر منصور پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ساتھ تو دنیا بھر میں آذادی سے گھوم پھر سکتے ہیں لیکن سچ کی تلاش میں ایک صحافی نہیں۔ بھارت مخالف گروپس جلسے جلوس کرسکتے ہیں لیکن صحافی لکھ بھی نہیں سکتے۔ سرل کی ٹویٹ پر یہ سوال کہ ایسا کیا ہوا؟ اس دن ناصرف وہ بلکہ سب صحافی افسردہ ہیں۔

ان خدشات کے بارے میں شاید ای سی ایل پر سرل کا نام بعد میں کسی قانونی چارہ جوئی کے لیے ڈالا دیا گیا ہے۔

اس بارے میں عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یقینا بہتر ہوگا۔ ان کے خیال میں تو شاید جس قسم کا دباؤ حکومت پر بن رہا ہے اس کے بعد یہ پابندی جلد اٹھا لی جائے۔

اسی بارے میں