گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا 11 واں نمبر

ہنگر انڈیکس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سات ممالک میں بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں صحارا، وسطی افریقہ، چاڈ، میڈاگاسکر، سیرالیون اور زمبیا شامل ہیں

انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بھوک کا شکار ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان 11ویں نمبر پر ہے۔

٭ 80 کروڑ انسان بھوک کا شکار

ادارے کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2016 میں مختلف ممالک کے لوگوں کو خوراک کی دستیابی کی صورتحال کے مطابق انھیں صفر سے 100 پوائنٹس کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔

پاکستان 118 ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے اور اس کے 33.4 پوائنٹس ہیں۔ پاکستان سے صرف 11 ملک ایسے ہیں جہاں بھوک کا شکار لوگوں کا تناسب زیادہ ہے۔ بھارت اس رپورٹ میں پاکستان سے بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں 22 فیصد آبادی بھوک کا شکار ہے

بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں۔

سنہ 2008 میں پاکستان کے پوائنٹس 35 اعشاریہ ایک تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہاں بھوک میں کمی کچھ کم ہوئی ہے۔

لیکن درجہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی غذا کی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور آٹھ اعشاریہ ایک فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔

افغانستان کا نمبر آٹھواں جبکہ انڈیا کا نمبر 22واں ہے۔

انڈیا، نائجیریا اور انڈونیشیا سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔

2016 کے انڈیکس کے مطابق سات ممالک میں بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں صحارا، وسطی افریقہ، چاڈ، میڈاگاسکر، سیرالیون اور زمبیا شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ سنہ 2000 سے لے کر اب تک بھوک کی شرح میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی ترقی پذیر ملک غذائی قلت کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار نہیں ہے۔

13 ممالک ایسے ہیں جہاں سے ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جا سکا ان میں سے دس ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک و افلاس کی صورتحال شدید خطرناک ہے ان میں شام، سوڈان اور صومالیہ شامل ہیں۔

118 ممالک میں سے نصف ایسے ہیں جو بھوک کے شکار ہونے والوں میں ’خطرناک‘ یا ’تشویشناک‘ کیٹیگری میں شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ و جدل کا خاتمہ ہو۔

متعلقہ عنوانات