پاکستان نے گلابی گیند تیار کرنی شروع کر دی

ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کرکٹ میں اب گلابی گیند کے استعمال ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں کھیلوں کی صنعت میں اس کی تیاری شروع ہو گئی ہے

پاکستان میں گلابی گیند کی تیاری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

گلابی گیند سے ٹیسٹ میچ کے فروغ کے اس دور میں پاکستان کی کھیلوں کے سامان کی صنعت بھی خود کو تبدیل کر رہی ہے اور سیالکوٹ کی کئی فیکٹریاں اس قسم کی گیندیں بنا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

کرکٹ گیند بنانے والی ایک بڑی کمپنی ’گریز آف کیمبرج‘ کے چیف ایگزیکٹو کہتے ہیں کہ وہ ہر سال تقریباً 15 سے 20 ہزار گلابی گیندیوں بنا رہے ہیں اور گلابی گیندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

انور خواجہ کہتے ہیں کہ ’گزشتہ سال ہم نے مختلف رنگوں کی تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار گیندیوں بنائیں تھیں، لیکن ہماری گیندوں کی مانگ دن بدن بڑھ رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان بنانے کے تاریخ 19ویں صدی میں شروع ہوئی تھی جب یہاں برطانوی فوج کے لیے فٹبال بنانے کا آغاز ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

آج یہ صنعت اتنی پھل پھول چکی ہے کہ سیالکوٹ ہر سال 90 کروڑ ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے اور یہ شہر بڑے بڑے عالمی مقابلوں کے لیے فٹبال فراہم کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

فیکٹری میں دونوں، 142 اور 163 گرام وزن کی گیندیں بنائی جاتی ہیں، جن کی قیمت فروخت 4 ڈالر سے لیکر 25 ڈالر تک ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

یہ گیندیں چمڑے کے چار ٹکڑوں کو آپس میں سی کر بنائی جاتی ہیں اور اس کے لیے گائے کے چمڑا استعمال کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اب جب گلابی رنگ کے گیند زیادہ مقبول ہو رہے تو سیالکوٹ کے فیکٹری مالکان کو امید ہے کہ ان کے ہاں بھی آرڈرز کی بھرمار ہو جائے گی۔