’صحافی سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ یہ شواہد درست ہیں یا غلط‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈان اخبار کے صحافی سرل المائڈہ کی سکیورٹی معاملات کے بارے میں ایک اہم اجلاس کے بارے میں خبر سے دشمن ملک کے بیانیے کی تشہیر ہوئی ہے لہٰذا اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ انہی تحقیقات کی وجہ سے سرل المائڈہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

٭ صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مذمت

٭ قومی مفاد اور صحافت

٭ سِرل کا صدقہ

’وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کی انکوائری ہوگی اور اس فیصلے کے ڈھائی گھنٹے کے بعد مجھے بتایا گیا کہ اس معاملے کے مرکزی کردار (سرل) نے ملک سے باہر جانے کے لیے نشست بک کروائی ہے۔ اس وقت میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیتا۔‘

وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر ایسے نہ کیا جاتا تو کہا جاتا کہ حکومت نے خود خبر لیک کی اور پھر خود ہی خبر دینے والے کو ملک سے بھگا دیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے پاس بتانے اور دکھانے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ فی الحال اس بارے میں انکوائری مکمل ہونے تک کچھ نہیں کہیں گے۔ البتہ انھوں نے کہا کہ انہوں نے اخبار مالکان کی تنظیوں کو جمعے کے روز ملاقات کے لیے بلایا ہے جنھیں وہ کچھ چیزیں دکھائیں گے۔

’ہم سرل کو بھی کچھ بتانا اور کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔ اتنا تو ہمیں حق ہے کہ ہم انہیں کچھ بتائیں اور پوچھیں کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ حکومت نے اس خبر کی ترید کی۔ ’میں اے پی این ایس سے بالکل متفق ہوں کہ یہ معاملہ ادھر ختم ہو جانا چاہیے تھے لیکن اس صحافی نے ٹویٹ کی کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہیں۔‘

انھوں نے کہا ڈان کے صحافی سرل المائڈہ کا نام ای سی ایل میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے ان کو یہ خبر لیک کی۔

انھوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ صحافی کبھی اپنے ذرائع نہیں بتاتے۔ ’ہمارے پاس شواہد ہیں۔ ہم ان سے ذرائع کے بارے میں نہیں پوچھیں گے لیکن ہم ان سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ بھائی یہ شواہد درست ہیں یا غلط ہیں۔‘

انھوں نے کہا سرل المائڈہ اگر اگلے روز کے لیے دبئی کے لیے بک نہ ہوتے تو ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالتے۔

انھوں نے مزید کہا ’دو دیگر افراد بھی ہیں جن سے میں نے بات کی ہے۔ وہ صحافی نہیں ہیں اور ان پر نظر رکھی ہوئی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں