’ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ میں برسوں بعد خوشی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین اور بچے بھی ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ آ رہے تھے۔( فائل فوٹو)

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گرفتاری ہو یا منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات، لندن کے علاقے ایجویئر میں واقع ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ جانے کا کئی بار اتفاق ہو چکا ہے لیکن گذشتہ دو تین برسوں میں شاید پہلی بار ایسے موقع پر یہاں آنا ہوا جب یہاں خوشی کا سماں تھا۔

آپ یہ فیس بک لائیو اس لنک کے ذری

الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات ختم کرنے کے برطانوی پولیس کے فیصلے کے بعد جب کوریج کے لیے انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ پہنچا اور وہاں اس سے پہلے کہ ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل یا مصطفیٰ عزیز آبادی کو تلاش کرتا ہمارے سامنے مٹھائی کا تھال رکھ دیا گیا اور آواز آئی کہ'یہ لیں مٹھائی کھائیں‘۔

اس سے پہلے کہ فیس بک لائیو کا آغاز کرتے ہمیں اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کا کچھ وقت ملا، ایک طرف ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی رہی جس میں زیادہ تر فون کراچی سے مبارکباد کے فون آ رہے تھے۔ دوسری طرف ان خواتین اور بچوں پر نظر پڑتی رہی جو سکاٹ لینڈ یارڈ کے فیصلے کے بعد ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ آ رہے تھے۔ ان میں ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوی اور بچے بھی شامل تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوی نے منی لانڈرنگ کیس میں آنے والے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ آج یہاں مبارکباد دینے آئی ہیں لیکن ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات پر انھوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ'آج فتح کا دن کا ہے کوئی اور بات نہیں بات نہیں کروں گی‘۔

ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ سے بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں بی بی سی اردو سروس کے حسین عسکری اور ریاض سہیل نے منی لانڈرنگ کیس میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے فیصلے کی اہمیت اور کراچی کی سیاست پر اس کے اثرات پر گفتگو کی اور کمنٹس کے جوابات بھی دیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں